صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 275
صحيح البخاری جلد ا ۲۷۵ - كتاب الوضوء ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ ناک میں پانی لیا اور ناک صاف کی، تین چلوؤں وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَی سے اپنا ہاتھ پانی میں ڈالا اور اپنا منہ تین بار دھویا۔الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ پھر اپنے ہاتھ کہنیوں تک دو دفعہ دھوئے۔پھر اپنا فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ ہاتھ ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا۔اس طرح کہ ان دونوں کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لائے ، ایک بار غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ۔اطرافه: ۱۸۵، ۱۹۱ ۱۹۲، ۱۹۷، ۱۹۹۔ہی۔پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے۔تشریح : غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْن : سرکے مسح کے بعد باب مذکور باندھنے کی غرض اس اختلاف کی طرف اشارہ کرتا ہے جو مسلمانوں کے بعض فرقوں کے درمیان چلا آ رہا ہے۔یعنی وہ مشہور اختلاف جو قرآن مجید کی اس آیت کی دوسری قرأت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمُ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ (المائدة: ( اَرْجُلَكُمْ کو بِرُؤُوسِكُمْ پر عطف کر کے ”ب“ حرف جار کے عمل کی وجہ سے اَرجُلِكُمْ بھی پڑھا گیا ہے اور وُجُوهَكُمْ پر عطف کر کے اَرْجُلَكُم بھی پڑھا گیا ہے۔پہلی صورت میں پاؤں پر سح کرنا فرض ہوگا اور دوسری صورت میں دھونا جو جمہور کا مذہب ہے۔ایک تیسرا فریق ہے جس نے دونوں صورتیں جائز رکھی ہیں۔جمہور کا استدلال وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ کی حدیث سے بھی ہے اور الی الْكَعْبَینِ کے الفاظ صفائی سے بتلاتے ہیں کہ دھونا ہی مراد ہے۔کیونکہ مسح کرنے کا حکم ہوتا تو سح میں مخنوں کے شامل کرنے کی ضرورت نہ تھی۔اس اختلاف کی تفصیل بداية المجتهد (كتاب الوضوء۔الباب الاول المسئلة العاشرة من الصفات میں ملاحظہ ہو۔امام بخاری کے نزدیک پاؤں دھونا ضروری ہے اور انہوں نے باب کے عنوان میں السی الكعبين کہہ کر نہ صرف حدیث مذکور کی طرف اشارہ کیا ہے۔بلکہ آیت کے مفہوم کو واضح کر دیا ہے۔یعنی یہ کہ الفاظ الی الْكَعْبَيْنِ، إِلَى الْمَرَافِقِ کے مقابل میں واقع ہوئے ہیں۔اس لئے اَرجُلَكُمْ کا عطف وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ پر ہونا چاہیے نہ برو و سكُم پر۔یہ بالکل عیاں ہے۔قرآن مجید میں ایسا طریقہ تعبیر جو اختیار کیا گیا ہے تو یہ مسیح کے جواز کی استثنائی صورت کی طرف ضمناً اشارہ کرنے کے لئے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ؛ جو وحی کے معنی سمجھتے تھے؛ اپنے قول عمل سے ان کی تشریح کر کے بتلا دیا ہے کہ پاؤں کا دھونا کب فرض ہے اور ان پر مسح کرنا کب جائز۔گویا شریعت الہی نے ایک عام حکم دے کر استثنائی حالتوں کی تشریح حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر چھوڑ دی۔(باقی بحث ملاحظہ ہو باب ۴۸ کی تشریح میں )