صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 274 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 274

صحيح البخاری جلد ا ۲۷۴ ۴- كتاب الوضوء غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔ اس طرح کہ ان ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے۔ اپنے بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى سر کے اگلے حصہ سے شروع کر کے ان کو اپنی گدی قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّ هُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ تک لے گئے ۔ پھر ان کو اسی جگہ واپس لائے ، جہاں سے انہوں نے شروع کیا تھا۔ پھر انہوں نے اپنے مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ۔ اطرافه: ١٨٦ ، ۱۹۱ ۱۹۲، ۱۹۷، ۱۹۹۔ دونوں پاؤں دھوئے۔ تشریح : مَسْحُ الرَّأْسِ كُله : سرپیچ کرنے کے متعلق بھی اختلاف ہوا ہے۔ آیا سارے پر کیا جاے یا ایک حصہ پر۔ امام بخاری اس مسئلہ میں امام مالک کے ساتھ متفق ہیں۔ جو وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ میں ”ب“ کو زائد قرار دیتے ۔ رار دیتے ہیں۔ برخلاف امام ابو حنیفہ اور امام شافعی وغیرہ کے جو ”ب“ جو ”ب“ کو تبعیضیہ قرار دے کر ایک حصہ مراد لیتے ہیں۔ ”ب“ دونوں مفہوم ادا کرتی ہے۔ مگر چونکہ سنت نبویہ نے عملا مسح کر کے ایک مفہوم کی تخصیص کر دی ہے، اس لئے دوسرا مفہوم نہیں لیا جائے گا۔ (تفصیلی بحث کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۷۹ تا ۳۸۴) باب ۳۹ : غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ دونوں پاؤں کا ٹخنوں سمیت دھونا ١٨٦ : حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا :۱۸۶ ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا : وہیب نے وُهَيْبٌ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِيْهِ قَالَ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عمرو سے عمرو نے اپنے باپ شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے کہ میں عمرو بن ابی حسن عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ کے پاس موجود تھا۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِتَوْرٍ مِّنْ زیدے نبی ﷺ کے وضو کے متعلق پوچھا۔ حضرت مَّاءٍ فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عبدالله نے پانی کا ایک لگن منگوایا اور نبی ﷺ کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكْفَا عَلَى يَدِهِ مِنَ التَّوْرِ وضو کی طرح وضو کر کے ان کو دکھلایا۔ انہوں نے اپنے فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي ہاتھ پر اس لگن سے پانی انڈیلا اور تین دفعہ اپنے ہاتھ التَّوْرِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ لگن میں داخل کیا اور کلی کی اور