صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 273 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 273

صحيح البخاری جلد ا ۲۷۳ ۴- كتاب الوضوء کارو تشريح : لَمْ يَتَوَضَّأَ إِلَّا مِنَ الْغَشْيَ الْمُنقل : اس باب میں بھی ان لوگوں کا کرنا مقصود ہے، جو فیف سی بے ہوشی کو بھی ناقض وضو قر ار دیتے ہیں۔ حضرت اسماء کو ایسی غشی نہیں ہوئی تھی جس میں کوئی ہوش نہیں رہتا اور انہوں نے وضو نہیں دھرایا، بلکہ سر پر پانی ڈال لیا ہے۔ یہ واقعہ روایت نمبر ۸۶ میں بھی گذر چکا ہے۔ وہاں سورج گرہن کا ذکر نہیں۔ یہاں اس کا ذکر کر کے نماز پڑھنے کا سبب واضح کر دیا ہے۔ باقی امور کے متعلق روایت نمبر ۸۶ کی تشریح دیکھئے۔ نیز ملاحظہ ہو تشریح روایت نمبر ۲۱۶، ۲۱۸، ۴۲۸۔ بَاب ۳۸ : مَسْحُ الرَّأْسِ كُلَّهُ سارے سر کا مسح کرنا لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَامْسَحُوْا بِرُءُوسِكُمْ کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ (المائدة: ٧) وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ الْمَرْأَةُ اور ابن مسیب نے کہا: عورت بھی آدمی کی طرح بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ تَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهَا ہے۔ اپنے سر پر مسح کرے اور امام مالک سے پوچھا وَسُئِلَ مَالِكٌ أَيُجْزِئُ أَنْ يَمْسَحَ بَعْضَ گیا : کیا سر کے ایک حصہ کا مسح کرنا کافی ہوگا؟ تو الرَّأْسِ فَاحْتَجَّ بِحَدِيْثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید کی حدیث سے استدلال کیا۔ ١٨٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۸۵ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عمرو بن یحی مازنی الْمَازِنِي عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ سے ، عمرو نے اپنے باپ سے روایت ے روایت کی کہ ایک شخص ابْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى نے حضرت عبداللہ بن زید سے جو عمر و بن کچی کے دادا تھے کہا: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُوْلُ کس طرح وضو کیا کرتے تھے؟ اس پر حضرت صد الله عبداللہ بن زید نے کہا: ہاں۔ اور انہوں نے پانی اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ نَّعَمْ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَفْرَغَ منگوایا اور اپنے ہاتھ دو (۴) ردو (۲) دفعہ دھوئے۔ پھر کلی کی اور عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ مَضْمَضَ تین دفعہ ناک صاف کیا۔ پھر تین دفعہ اپنا منہ دھویا۔ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ پھر اپنے ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے۔ پھر دونوں