صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 272
صحيح البخاری جلد ا ۲۷۲ ۴- كتاب الوضوء وَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ فَقُلْتُ آيَةٌ کہا: کوئی نشان ہے؟ تو انہوں نے اشارہ کیا کہ ہاں۔ فَأَشَارَتْ أَوْ نَعَمْ فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلَّانِي تب میں بھی کھڑی ہوگئی ۔ اتنی دیر کھڑی رہی کہ مجھ پر غشی الْعَشْيُ وَجَعَلْتُ أَصْبُّ فَوْقَ رَأْسِي طاری ہونے لگی اور میں نے اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع مَاءً فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کر دیا۔ جب رسول الله الله فارغ ہوئے تو اللہ علیہ نماز سے فارس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ آپؐ نے اللہ تعالی کی حد اور تعریف بیان کی۔ پھر فرمایا: جو بھی ایسی چیز تھی ، جس کو میں نے نہ دیکھا تھا، میں نے قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ كُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلَّا قَدْ اس کو اپنی اس جگہ کھڑے کھڑے دیکھ لیا ہے۔ یہاں تک رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ کہ جنت بھی اور دوزخ بھی۔ اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ وَالنَّارَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ قبروں میں تم کو ایسا ہی آزمایا جائے گا جیسا کہ دجال کے فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ فتنہ کے ذریعہ سے یا اس کے قریب قریب ۔ میں نہیں الدَّجَّالِ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ جانتی کہ حضرت اسماء نے کونسا لفظ کہا۔ حضرت اسماء کہتی أَسْمَاءُ يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ مَا تھیں : تم میں سے ایک شخص کے پاس (فرشتے) آئیں جائے گا کہ اس شخص کے متعلق عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ گے اور اس سے پوچھا جائے گا کہ اس الْمُوْقِنُ لَا أَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ قَالَت تمہارا کیا مل ہے جو ایمان لانے والا ہوگا یا یقین کرنے والا ؛ میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماء نے ان میں سے کون أَسْمَاءُ فَيَقُوْلُ هُوَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ سا لفظ کہا؟ وہ کہے گا: وہ محمد ہے، اللہ کا رسول ہے۔ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا ہمارے پاس کھلے کھلے دلائل اور ہدایت کی باتیں لایا اور وَاتَّبَعْنَا فَيُقَالُ لَهُ نَمْ صَالِحًا فَقَدْ عَلِمْنَا ہم نے قبول کیا اور ایمان لائے اور پیروی کی۔ تب اس إِنْ كُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ سے کہا جائے گا۔ اچھی طرح سے سو جا۔ ہم تو جانتے ہی الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ تھے کہ تو مومن ہے اور جو منافق ہوگا یا شک کرنے والا ؛ أَسْمَاءُ فَيَقُوْلُ لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماء نے ان میں سے کون سا لفظ کہا، وہ کہے گا: میں نہیں جانتا۔ لوگوں کو میں نے کچھ يَقُوْلُوْنَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ۔ کہتے سنا۔ میں نے بھی کہہ دیا۔ إطرافه ۸۶، ۹۲۲، ۱۰۵۳، 1054 ، 1061 ، ۱۲۳۵ ، ۱۳۷۳ ، ٢۵۱۹ ، ٢٥٢٠، ٧٢٨٧۔