صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xxxiii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxiii

دیباچه نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم صحيح البخارى بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَعَلَى خَلِيفَتِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ دیباچه 000000000 شریعت اسلامیہ کی حقیقت سمجھنے کے لئے علم حدیث ان تین اہم اور نہایت ضروری رکنوں میں سے ہے جن میں سے اگر کوئی ایک رکن بھی نظر انداز کیا جائے تو اسلام کا ایک معتدبہ حصہ ہمارے لئے مبہم اور مشتبہ ہو جاتا ہے۔مسلمانوں میں سے جن لوگوں نے حدیث کا انکار کیا ، انہوں نے ظلم کیا ہے اور اگر ان کے نظریہ کو قبول کیا جائے تو ہمیں اسلام کے متعلق ایک بہت بڑے ذخیرہ معلومات سے محروم ہونا پڑے گا۔چند ایک سقیم و مخدوش روایات کی بناء پر جن کا ستم از خود واضح ہے اور جنہیں رڈ کرنے سے سلسلہ اسناد اور صحت احادیث پر کوئی حرف نہیں آتا؟ ہدایت و معرفت کے انمول موتیوں کو اپنے ہاتھ سے گنوا د بیا کون سی عظمندی ہے۔ہر علم اپنی تاریخ کے بغیر پانچ ہے اور اگر حدیث سے انکار کیا جائے تو شریعت اسلامیہ کی مقام حدیث: تاریخ کا کچھ باقی نہیں رہتا۔بے شک اسلام کی اصل بنیاد قرآن مجید پر ہے اور وہ اپنے مبادی واصول واحکام کی تشریحات بھی خود کرتا ہے۔مگر اس میں بھی شک نہیں کہ احادیث نبویہ ان تشریحات میں ایسی جلاء و وضاحت پیدا کر دیتی ہیں جو ہمارے لئے ظلمات میں مشعل ہدایت بن کر ہماری راہ کو روشن اور ہماری روحانی سیر و سیاحت کو بہت آسان کر دیتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کشتی نوح میں منکرین حدیث کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔میں نے سنا ہے کہ بعض تم میں سے حدیث کو بکلی نہیں مانتے۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو سخت غلطی کرتے ہیں۔میں نے یہ تعلیم نہیں دی کہ ایسا کرو۔بلکہ میرا مذ ہب یہ ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ جو تمہاری ہدایت کے لئے خدا نے تمہیں دی ہیں۔سب سے اول قرآن ہے۔جس میں خدا کی توحید اور جلال اور عظمت کا ذکر ہے اور جس میں ان اختلافات کا فیصلہ کیا گیا ہے جو یہود اور نصاری میں تھے۔66 کشتی نوح صفحه ۲۸ ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۶) اور قرآن مجید کی عظمت اور اس کی ابدیت اور اس کی تأثیرات قدسیہ کا ذکر کرنے اور اس ضمن میں اس کی تعلیم کا انجیل کی تعلیم سے مختصر سا مقابلہ کرنے کے بعد صفحہ ۶۳ پر فرماتے ہیں:۔وو دوسرا ذریعہ ہدایت کا جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے سنت ہے۔یعنی آنحضرت ﷺ کی