صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xxxii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxii

مختصر سیرت و سوانح حضرت سید زین العابدین دے آپ کی وفات پر مکرم چودھری شبیر احمد صاحب وکیل المال تحریک جدیدر بوہ نے مندرجہ ذیل نظم لکھی :- اک اور بزم یار کا گل ہوگیا چراغ اس قلب ناتواں یہ لگا ایک اور داغ محمود کا جری تھا جو رخصت ہوا ہے آج اللہ کا اک ولی تھا جو رخصت ہوا ہے آج تجھ کو بھلا سکے گی نہ کشمیر کی زمین جس کا تو شہ سوار تھا اے زین العابدین نازاں تیری زبان پہ تھی اتم الالسنہ عارف بنا گیا تجھے اک شوق بے پنہ تھے دین مصطفے کے لیے تیرے صبح و شام تو یاد گار عہد میسج الزمان تھا فضل عمر کی بزم کا اک راز دان تھا ہم پر بہت گراں ہے اگر چہ تیری وفات لیکن مسیح وقت کی یاد آ گئی ہے بات ”جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس راہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات اے جانے والے جا تیرا فردوس ہو مقام پروان خلافت حقہ رہا مدام خدا کی رحمتیں افشاں رہیں مدام اس مضمون کا اکثر حصہ جامع صحیح مسند بخاری ترجمه و شرح حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب پارہ نہم سے لیا گیا ہے۔نیز جو عبارات اس مضمون سے زائد یہاں شامل کی گئی ہیں اُن کے حوالہ جات متعلقہ عبارات کے ذیل میں درج کر دیتے ہیں۔