صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxii
مختصر سیرت و سوانح حضرت سید زین العابدین له آپ کی وفات پر مکرم چودھری شبیر احمد صاحب وکیل المال تحریک جدید ربوہ نے مندرجہ ذیل نظم لکھی :- المال نے مندرجہ نظمک اک اور بزم یار کا گل ہو گیا چراغ اس قلب ناتواں پہ لگا ایک اور داغ محمود کا جری تھا جو رخصت ہوا ہے آج اللہ کا اک ولی تھا جو رخصت ہوا ہے آج تجھ کو بھلا سکے گی نہ کشمیر کی زمین نازاں تیری زبان پر تھی اتم الالسنہ جس کا تو شہ سوار تھا اے زین العابدین عارف بنا گیا تجھے اک شوق بے پنہ تھے دین مصطفے کے لیے تیرے صبح و شام فضل عمر کی بزم کا اک راز دان تھا ہم پر بہت گراں ہے اگرچہ تیری وفات لیکن مسیح وقت کی یاد آ گئی ہے بات جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس راہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات پروان خلافت حقہ رہا مدام تو یاد گار عید مسیح الزمان تھا اے جانے والے جا تیرا فردوس ہو مقام تجھ پر خدا کی رحمتیں افشاں رہیں مدام 00000 الله اس مضمون کا اکثر حصہ جامع صحیح مسند بخاری ترجمه و شرح حضرت سید زین العابد لعابدین ولی اللہ شاہ صاحب پارہ نہم سے لیا گیا ہے۔ نیز جو عبارات اس مضمون سے زائد یہاں شامل کی گئی ہیں اُن کے حوالہ جات متعلقہ عبارات کے ذیل میں درج کر دیتے ہیں۔