صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 259
صحيح البخاری جلد ا ۲۵۹ ۴- كتاب الوضوء سُورُ الْكِلابِ دوسرا اختلافی مسئلہ احادیث ۱۷۲ تا ۱۷۵ سے حل کیا ہے جو صحابہؓ سے مروی ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایت نمبر ۱۷۲ کی صحت پر سب کو اتفاق ہے۔ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن کو جس میں کتے نے منہ ڈالا ہو، نہ ایک دوبار بلکہ سات بار دھونے کا حکم دیا ہے تو اس کے جوٹھے پانی سے احتیاط نہ کرنا کیونکر درست ہو سکتا ہے؟ حدیث نمبر ۱۷۳ ۱۷۴، ۱۷۵ لاکر بتلایا ہے کہ یہ حکم اس کے پلید ہونے کی وجہ سے نہیں دیا بلکہ کسی اور وجہ سے دیا ہے۔ اگر اس کا سبب یہ ہوتا کہ کتا نجس ہے تو پھر کتوں کو مسجد میں آنے کا موقع نہ دیا جاتا اور نہ اُن کا مارا ہوا شکار کھانے کی اجازت ہوتی ۔ جو لوگ کتے کو نجس سمجھ کر اس سے نفرت کرتے ہیں، وہ اس مشفقانہ روح سے خالی ہیں، جس کے پیدا کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی ہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ سے بھی ، اسے بھی رحمت و شفقت کی اُمید نہیں رکھنی چاہیے۔ مسئلہ نجاست و طہارت کی موشگافیوں کا رد کرتے ہوئے اس خوبی سے امام موصوف نے رحمۃ للعالمین ﷺ کی پاکیزہ تعلیم پیش کی ہے، عليه جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط کتے کے زہر یلے لعاب سے محفوظ ر۔ ہر یلے لعاب سے محفوظ رہنے کے لئے سات بار دھونے کا حکم رنے کا حکم دیا ہے۔ اگر اس کی وجہ نجاست ہوتی تو نجاست کو تو اس وقت تک دھونے کا حکم ہے کہ وہ دور ہو جائے۔ سات بار کی تخصیص بتلاتی ہے کہ نجاست کے سوا کوئی اور غرض ہے جس کی وجہ سے اس قدر اہتمام کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لئے اس کا جوٹھا پانی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہی خلاصہ ہے امام مالک کے مذہب کا بھی۔ صلى بداية المجتهد كتاب الوضوء۔ الباب الثالث فى المياه المسئلة الرابعة ) کتے کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشفقانہ سلوک کرنے کی بھی نصیحت کی ( جیسا کہ روایت نمبر ۱۷۴ میں صحابہ کے عمل سے واضح ہے ) تا لوگ کوئی غلط راہ اختیار نہ کر لیں، جیسا کہ بعض جھوٹی طہارت کا دم بھرنے والوں نے کی صلى ہے اور کتے بیچارے سے کتوں کا ساس رے سے کتوں کا سا سلوک کیا ہے اور رحمۃ للعالمین علی للعالمین ﷺ کی نصیحت کی کوئی پرواہ نہیں کی ۔ هَذَا الْفِقْهُ بِعَيْنِهِ : باب کے عنوان میں عطاء بن ابی رباح و محمد بن مسلم ابن شہاب زہری اور سفیان ثوری کے جو حوالے دیئے ہیں تو یہ اس لئے کہ معلوم ہو کہ ایسے مسائل دوسری صدی میں جاکر پیدا ہوئے ، صحابہ میں نہ تھے۔ یہ الفاظ (قَالَ سُفْيَانُ هَذَا الْفِقْهُ بِعَيْنِهِ) جو امام بخاری نے بطور جملہ معترضہ کے نقل کئے ہیں، اس سے آپ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ نہیں بلکہ ثوری ہیں۔ کیونکہ سفیان نامی دو شخصوں نے ابن شہاب سے روایتیں کی ہیں اور امام موصوف جب خالی سفیان کہتے ہیں تو اس سے مراد سفیان ثانی الذکر ہوتے ہیں۔ ولید بن مسلم نے زہری کا قول إِذَا وَلَغَ فِي إِنَاءٍ ۔۔۔۔ سفیان ثوری سے بیان کیا۔ جس پر سفیان نے مذکورہ بالا الفاظ کہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۵۷) امام موصوف نے ان کا سارا قول نقل کر کے خود انہی کا شبہ پیش کیا ہے : وَفِی النَّفْسِ مِنْهُ شَيْئ۔ یعنی وہ خود بھی مطمئن نہ تھے۔ اس واسطے کہا: يَتَوَضَّأُ بِهِ وَيَتَيَمَّمُ ۔ (یعنی اس سے وضو کرے اور تم بھی کرلے ) حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شبہات سے بچنا ہی اصل میں تقویٰ ہے۔ شبہ کی صورت میں اس سے وضو نہیں کرنا چاہیے۔