صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 260 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 260

صحيح البخاری جلد ا ۲۶۰ ۴- كتاب الوضوء بَابٌ : إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ} جب کتا ( تم میں سے کسی کے ) برتن میں پٹے ۱۷۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۷۲ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابو زناد سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى ابو زناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ سے روایت کی کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ندارم جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں پی جائے تو فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا ۔ چاہیے کہ وہ اسے سات دفعہ دھوئے ۔ ۱۷۳ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ ۱۷۳ : ہم سے اسحاق نے بیان کیا (کہا: ) عبدالصمد الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ نے ہمیں بتلایا۔ ( انہوں نے کہا: ) عبدالرحمان بن عبد اللهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ أَبِي الله بن دینار نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) میں نے نا۔ انہوں نے ابو صالح سے، ابو صالح صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اپنے باپ سے نارا نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا صلى الله سے روایت کی کہ ایک شخص نے ایک کتے يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ فَأَخَذَ الرَّجُلُ کو دیکھا کہ وہ پیاس۔ اکہ وہ پیاس کے مارے مٹی کھا رہا ہے۔ تو اس خُفَّهُ فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَزْوَاهُ شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی نکال کر اسے فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ۔ اطرافه ٢٣٦٣، ٢٤٦٦، ٦٠٠٩۔ پلایا ۔ یہاں تک کہ اس کو سیر کر دیا۔ اس پر اللہ تعالی نے اس کی قدر کی اور اس کو جنت میں داخل کر دیا۔ ١٧٤ : وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيْبِ ۱۷۴ اور احمد بن شبیب نے کہا کہ میرے باپ نے حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مجھے بتلایا۔ انہوں نے یونس سے ، یونس نے ابن قَالَ حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيْهِ شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حمزہ بن قَالَ كَانَتِ الْكِتَابُ تَبُوْلُ وَتُقْبِلُ عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے مجھے یہ باب ابن عساکر کی روایت کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۵۹)