صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 258 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 258

صحيح البخاری جلد ا ۲۵۸ ۴- كتاب الوضوء ގ أَنَسِ فَقَالَ لَأَنْ تَكُونَ عِنْدِيْ شَعَرَةٌ مِنْهُ حضرت انس کے گھر والوں سے لئے ہیں۔تو انہوں أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا۔نے کہا: میرے پاس ان میں سے ایک بال بھی ہو تو وہ مجھے دنیا اور دنیا کی ہر شئے سے زیادہ پیارا ہے۔طرفه: ۱۷۱۔۱۷۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ا ہم سے محمد بن عبد الرحیم نے بیان کیا، کہا: الرَّحِيْمِ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سعيد بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ عباد نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابن عون سے، ابن سِيْرِيْنَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى عون نے ابن سیرین سے، ابن سیرین نے حضرت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَلَقَ رَأْسَهُ كَانَ انسؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بال اتر وائے تو حضرت ابوطلحہ پہلے شخص تھے جنہوں نے أَبُو طَلْحَةَ أَوَّلَ مَنْ أَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ۔طرفه: ۱۷۰ تشریح: آپ کے بالوں میں سے کچھ بال لئے۔الْمَاءُ الَّذِى يُغْسَلُ بِهِ شَعَرُ الْإِنْسَان: باب مذکورہ میں یہ الفاظ اختیار کر کے اس اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے جو فقہاء کے درمیان بوجہ مختلف روایتوں کے پیدا ہوا ہے۔حدیث نمبر ۱۶۲ میں گذر چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے پانی میں بغیر دھوئے ہاتھ ڈالنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ایسا ہی حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِى الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِى ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ۔روایت نمبر ۲۳۹) یعنی کھڑے پانی میں کوئی پیشاب نہ کرے کہ پھر اسی میں نہائے۔ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نجاست خواہ تھوڑی ہو یا بہت؛ پانی کو نا پاک کر دیتی ہے۔اس پر فقہاء مسئلہ طہارت کے متعلق موشگافیاں کرتے ہوئے مختلف بحثوں میں پڑ گئے ، جن میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ پانی جو سر پر ڈالا جاتا ہے اور بالوں میں سے ہوکر جسم پر پڑتا ہے، نا پاک ہے یا پاک۔اس مسئلہ میں بعض علماء تو تفریط کی طرف نکل گئے ہیں۔اور بعض افراط کی طرف۔یہاں تک کہ اگر اور پانی نہ ہو تو کتوں کے جو ٹھے پانی سے بھی وضو کرنا جائز قرار دے دیا ہے۔امام بخاری نے باب کے عنوان میں اس افراط و تفریط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نہایت خوبی سے اختلاف کو حل کیا ہے۔بالوں کے پانی کے نجس ہونے یا نہ ہونے کے متعلق یہ جواب دیا ہے کہ صحابہ سے اس بارہ میں سوائے حدیث نمبر ۱۷۰ اور اے کے اور کچھ منقول نہیں۔یعنی انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بطور تبرک لئے اور محفوظ رکھے۔حضرت ابوطلحہ نے سب سے پہلے یہ بال لئے تھے اور چونکہ حضرت انس بن مالک حضرت ابوطلحہ کے ربیب تھے۔اس لئے وہ بال اُن کے پاس رہے۔پھر ان سے محمد بن سیرین کے پاس پہنچے جو حضرت انس بن مالک کے آزاد کردہ غلام تھے۔