صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 257
صحيح البخاری جلد ا ۲۵۷ -۴- كتاب الوضوء جائز ہوگا۔اصل مقصد تو جسم کا دھونا ہے۔نیم کی اجازت مجبوری کی حالت میں ہے۔باب کے عنوان میں حضرت عائشہ کے جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ کتاب التیمم میں مفصل آئے گا۔اس ضمن میں حدیث نمبر ۱۶۹ جولائے ہیں، اس سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ وضو کی اہمیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس قدر تھی کہ ایک دفعہ جب پانی تلاش کرنے پر نہ ملا تو آپ نے اعجازی رنگ میں تھوڑے سے پانی کو اس قدر برکت دی کہ سب صحابہ نے جو ستر (۷۰) کے قریب تھے ، وضو کر لیا۔یہ واقعہ پیش کر کے وضو کی ضرورت بیان کی ہے۔بہت سے سُست لوگ ہیں جو ذرہ سے بہانے پر تیم کو اپنے لئے غنیمت سمجھ لیتے ہیں۔انہیں اس سے نصیحت پکڑنی چاہیے۔یہ واقعہ آگے جا کر مجزات میں بھی بیان ہوگا۔وہاں اس کی مزید تشریح کی جائے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔بَاب ٣٣ : الْمَاءُ الَّذِي يُغْسَلُ بِهِ شَعَرُ الْإِنْسَانِ وہ پانی جس سے آدمی کے بال دھوئے جائیں وَكَانَ عَطَاء لَّا يَرَى بِهِ بَأْسًا أَنْ اور عطاء اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ ان يُتَّخَذَ مِنْهَا الْخُيُوطُ وَالْحِبَالُ وَسُور بالوں سے دھاگے اور رسئیں بنائی جائیں۔نیز کتوں الْكِتَابِ وَمَمَرّهَا فِي الْمَسْجِدِ وَقَالَ کا جوٹھا اور ان کا مسجد میں سے گذرنا اور زہری نے کہا: الزُّهْرِيُّ إِذَا وَلَغَ فِي إِنَاءٍ لَّيْسَ لَهُ جب کسی برتن میں کتا منہ ڈالے اور آدمی کے پاس وَضُوْءٌ غَيْرُهُ يَتَوَضَّأُ بِهِ وَقَالَ سُفْيَانُ اس کے سوا اور پانی نہ ہو تو اس سے وضو کر لے۔هَذَا الْفِقْهُ بِعَيْنِهِ، يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: فَلَمْ سفیان نے کہا کہ فقہ اصل میں یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا (المائدة: ٧) وَهَذَا فرماتا ہے: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً۔۔۔یعنی اگر تم پانی نہ پاؤ مَاءً وَفِي النَّفْسِ مِنْهُ شَيْءٌ يَتَوَضَّأُ بِهِ تو تیم کرو اور یہ پانی ہی ہے اور دل میں اس کے متعلق کچھ شبہ ہے تو اس سے وضو کرے اور تیم کر لے۔ويتيمم۔۱۷۰: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيْلَ ۱۷۰ ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہے، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيْلُ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ اسرائیل نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عاصم ابْنِ سِيْرِيْنَ قَالَ قُلْتُ لِعَبِيْدَةَ عِنْدَنَا مِنْ عاصم نے ابن سیرین سے روایت کی۔وہ کہتے تھے شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ میں نے عبیدہ سے کہا: ہمارے پاس نبی ﷺ کے أَصَبْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنَسٍ أَوْ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ کچھ بال ہیں۔ہم نے یہ حضرت انس سے یا (کہا)