صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 256 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 256

صحيح البخاری جلد ا ۲۵۶ ۴- كتاب الوضوء متعلق حکم دیتے۔حدیث نمبر ۶۷ میں جس لڑکی کو نسل دینے کا ذکر ہے وہ آپ کی صاحبزادی حضرت زینب تھیں ، جوفوت ہو گئی تھیں۔عربوں کے نزدیک یمن یعنی داہنی طرف خیر و برکت پر دلالت کرتی ہے اور بائیں طرف شوم اور نحوست پر۔آپ نے اس خیر و برکت کے معنی کو وضو میں بھی ملحوظ رکھا ہے، نہانے میں بھی اور اپنے ہر عمل میں۔اور اسی کی تعلیم دی ہے۔ہر اچھی بات لے کر آپ نے اس سے روحانی مقاصد ذہن نشین کرائے ہیں۔بَاب ٣٢ : الْتِمَاسُ الْوَضُوْءِ إِذَا حَانَتِ الصَّلَاةُ جب نماز کا وقت ہو جائے تو وضو کا پانی تلاش کرنا وَقَالَتْ عَائِشَةُ حَضَرَتِ الصُّبْحُ اور حضرت عائشہ نے کہا کہ صبح ہوئی اور پانی تلاش کیا فَالْتُمِسَ الْمَاءُ فَلَمْ يُوْجَدْ فَنَزَلَ التَّيَمُّمُ۔گیا مگر نہ ملا۔اس پر تیم ( کا حکم ) نازل ہوا۔١٦٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۱۲۹ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے اسحاق بن عبداللہ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالک أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ﷺ کو دیکھا اور اس وقت عصر کی نماز کا وقت ہو چکا فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوْءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ تھا اور لوگ وضو کا پانی تلاش کرنے لگے مگر نہ پایا۔فَأْتِيَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ پانی لایا گیا۔رسول اللہ بِوَضُوْءٍ فَوَضَعَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ ﷺ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈالا اور لوگوں سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ وَأَمَرَ فرمایا کہ اس سے وضو کریں۔(حضرت انس) کہتے النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّتُوْا مِنْهُ قَالَ فَرَأَيْتُ تھے میں نے پانی کو دیکھا کہ وہ آپ کی انگلیوں کے الْمَاءَ يَنْبَعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى نیچے سے پھوٹ رہا ہے۔یہاں تک کہ سب نے وضو تَوَضَّنُوْا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ۔کرلیا۔اطرافه ۱۹٥، ۲۰۰، ۳۵۷۲، ٣٥۷۳، ٣٥٧٤، ٣٥٧٥۔تشریح : الْتِمَاسُ الْوَضُوءِ إِذَا حَانَتِ الصَّلوةُ : اس باب میں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ محض پانی کے پاس نہ ہونے پر تیم جائز نہیں بلکہ وہ تلاش کیا جائے اور اگر باوجود تلاش کے نہ ملے تو پھر تیتم کرنا