صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xxxi of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxi

مختصر سیرت و سوانح حضرت سید زین العابدین 11 صفحات لکھ لیتے۔آپ کا یہ طریق تھا کہ آپ نماز سے پہلے ہی چائے بھی تیار کر لیتے تھے اور نوش فرماتے۔مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ خاکسار جب کبھی صبح کی نماز کے بعد ان کے پاس جاتا تو چائے پیش کرتے اور نہایت محبت کے ساتھ باتیں کرتے اور کبھی کبھار سیر کے لیے بھی باہر تشریف لے جاتے اور قرآن مجید کی مشکل آیات کی نہایت عمدہ تفسیر بیان فرماتے۔صحیح بخاری کی یہ شرح جو آپ نے لکھی اس کے پہلے ایڈیشن کے پہلے دو جز و قادیان میں شائع ہوئے اور باقی اجزاء (۳ تا ۱۵) ادارۃ المصنفین ربوہ کے زیر اہتمام شائع ہوئے۔حضرت شاہ صاحب ۱۹۶۲ء میں جب بیمار ہوئے تو آپ نے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں پیغام بھجوایا کہ وہ بخاری کی شرح کا کام حضور کی ہدایت کے مطابق کرتے رہے ہیں۔اب تک جو کام ہو چکا ہے اس کو حضور کسی کے سپرد کر دیں تا کہ اس پر نظر ثانی ہوکر اور حوالہ جات وغیرہ کی تصیح ہوکر شائع ہو سکے اور باقی کام مکمل کیا جائے۔چنانچہ سید نا حضرت امیر المومنین نے مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب کو قصر خلافت میں یاد فر مایا اور ارشاد فرمایا کہ جس قدر مسودہ تیار ہو چکا ہے، اُس کو لے لیں اور بقیہ کے متعلق کوشش کریں کہ وہ مضمون بھی تیار ہو۔چنانچہ انہوں نے حضور کے ارشاد کے ماتحت (۱۹) اجزاء کا مسودہ لے کر اس کام کو سنبھال لیا۔حضرت شاہ صاحب نے اپنی بیماری کے ایام میں مکرم ابوالمنیر نورالحق صاحب کو ارشاد فرمایا کہ وہ اُن سے روزانہ ملنے آیا کریں۔وہ لکھتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے وہ حاضر نہ ہو پاتے تو حضرت شاہ صاحب کسی کے ذریعہ انہیں بلوا بھیجتے اور بعض اوقات بار بار یاد فرماتے۔دورانِ گفتگو کبھی آپ کی آنکھیں پرنم ہو جاتیں اور فرماتے : افسوس بخاری کا کام مکمل نہ ہوا۔اس خواہش کا بھی اظہار فرماتے تھے کہ اللہ تعالی آپ کو صحت دے تو آپ اس کام کو مکمل کر دیں۔آپ ۱۵ اور ۱۲ مئی ۱۹۱۷ء کی درمیانی شب ۷۸ سال کی عمر میں وفات پاگئے اور امئی کو بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہ خاص میں دفن ہوئے۔سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنازہ کو کندھا بھی دیا اور قبر تیار ہونے پر دُعا بھی کرائی۔آپ نے اپنے پیچھے دوٹر کے اور پانچ لڑکیاں چھوڑیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں، نیکی اور تقویٰ کی وجہ سے آپ کی ایک بیٹی کو سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے مرزا حنیف احمد صاحب کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک فرما دیا۔و ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء۔آپ کی وفات سے پہلے آپ کی بیگم صاحبہ محترمہ نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ آپ کے استقبال کے لیے تشریف لا رہے ہیں اور یہ کہ نہایت عمدہ دروازے بنا کر لگوائے گئے ہیں۔وفات: اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اخلاص، استقلال محنت اور فدائیت کے اس پیکر پر اعلیٰ علیین میں رحمتوں اور فضلوں کی بارش کرتار ہے اور نعمائے جنت عطا فرمائے اور آپ کی اولاد کو اپنی نعمتوں سے نوازے۔