صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page ii
سم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ آخری زمانہ میں نازل ہونے والے مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ نے حکم و عدل قرار دیا ہے۔جو اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کر کے امت محمدیہ کے مختلف فرقوں کی افراط و تفریط کو ختم کر کے امت کو ایک بار پھر صراط مستقیم پر ڈال دیں گے۔حدیث کا مقام بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام (۱۸۳۵-۱۹۰۸ء) نے آنحضرت علی کی کامل متابعت میں مہدی معہود اور مسیح موعود کا مقام پایا اور بطور حگم اپنی کتاب کشتی نوح میں تحریر فرمایا: - میں نے سنا ہے کہ بعض تم میں سے حدیث کو بکنی نہیں مانتے۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو سخت غلطی کرتے ہیں۔میں نے یہ تعلیم نہیں دی کہ ایسا کرو بلکہ میر امن ہب یہ ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ جو تمہاری ہدایت کے لئے خدا نے تمہیں دی ہیں۔سب سے اول قرآن ہے۔جس میں خدا کی توحید اور جلال اور عظمت کا ذکر ہے اور جس میں ان اختلافات کا فیصلہ کیا گیا ہے جو یہود اور نصاری میں تھے۔دوسرا ذریعہ ہدایت کا سنت ہے یعنی وہ پاک نمو نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل اور عمل سے دکھلائے۔مثلاً نماز پڑھ کے دکھلائی کہ یوں نماز چاہیے اور روزہ رکھ کر دکھلایا کہ یوں روزہ چاہیے۔اس کا نام سنت ہے یعنی روش نبوی جو خدا کے قول کو فعل کے رنگ میں دکھلاتے رہے۔سنت اسی کا نام ہے۔تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے۔جو آپ کے بعد آپ کے اقوال جمع کئے گئے اور حدیث کا رتبہ قرآن اور سنت سے کمتر ہے کیونکہ اکثر حدیثیں ظنی ہیں لیکن اگر ساتھ سنت ہو تو وہ اس کو یقینی کر دے گی۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۶ مع حاشیه ) پھر اسی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں:۔ہاں تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے کیونکہ بہت سے اسلام کے تاریخی اور اخلاقی اور فقہ کے امور کو حدیثیں کھول کر بیان کرتی ہیں۔اور نیز بڑا فائدہ حدیث کا یہ ہے کہ وہ قرآن کی خادم اور سنت کی خادم ہے۔جن لوگوں کو ادب قرآن نہیں دیا گیا وہ اس موقع پر حدیث کو قاضی قرآن کہتے ہیں۔جیسا کہ یہودیوں نے اپنی حدیثوں کی نسبت کہا۔مگر ہم حدیث کو خادم قرآن اور خادم سنت قرار