صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 222 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 222

صحيح البخاري - جلد ا ۲۲۲ - كتاب الوضوء پانچ دفعہ روزانہ ندی میں نہاتا ہو، کیا اس کے بدن پر میل رہے گی ؟ صحابہ نے جواب دیا: نہیں۔آپ نے فرمایا: نمازی کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔(بخاری۔كتاب مواقيت الصلوة باب الصلوات الخمس كفارة۔روایت نمبر ۵۲۸) لَا تُقْبَلُ صَلوةٌ مَنْ أَحْدَثَ : أَحْدَثَ کے لغوی معنی یہ ہیں کہ ایک نئی حالت میں ہو جانا اور شریعت اسلامیہ کی اصطلاح میں قضائے حاجت یا ہوا خارج ہو جانے سے وضوء کا ٹوٹ جانا۔حضرت ابو ہریرۃ نے جواب میں فُسَاء أَو ضُرَاطٌ جو کہا تو چھوٹی چیز کا نام لے کر بڑی چیز کو سنے والے کے قیاس پر چھوڑ دیا۔اس طریقہ تعبیر کوعربی میں اکتفاء کہتے ہیں۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ پہلے باب میں جو آیت لائے ہیں۔اس میں یہ حکم ہے: إِذَا قُمْتُمُ إِلَى الصَّلوة۔۔۔۔یعنی جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنا چہرہ و غیرہ دھولیا کرو۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ حکم نہیں دیا کہ جب حدث کی حالت ہو تو وضو کر لیا کرو۔بلکہ جو حکم دیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ وضو نماز کے لئے بذاتہ ایک ضروری شرط ہے اور حدث چونکہ طہارت کی حالت میں ایک عارضی بات ہے۔اس لئے إِذَا قُمْتُمُ إِلَى الصَّلوةِ فَاغْسِلُوا کے حکم کے بعد اس کا ضمناً ذکر کیا اور فرمایا ہے: اَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طيبا (المائدہ:۷) یعنی دونوں راستوں سے غلاظت وغیرہ نکلنے پر اگر پانی ملے تو وضوء کر لو در نہ تیم۔اس طریقہ تعبیر کو اختیار کر کے یہ بتلانا مقصود ہے کہ بے وضوء ہونے کی یہ ظاہری شرط طہارت کے لئے وہی نسبت رکھتی ہے جو نبعت کہ تیم وضوء کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے وضو کے ساتھ رکھتا ہے۔اس تعلق کی طرف اشارہ کرنے کے لئے امام بخاری نے آیت مذکورہ کا حوالہ دے کر دوسرے باب کا یہ عنوان باندھا ہے: لَا تُقبل صلوةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ۔یعنی نماز کی قبولیت کے لئے طہارت کی حالت اصل شرط ہے اور اس ضمن میں مذکورہ بالا حدیث لا کر بتلایا ہے کہ حدث اس طہور میں ایک عارضی حالت ہے جو طہارت کے منافی ہے اور اس کے پیدا ہونے سے طہارت میں خلل واقع ہو جاتا ہے۔تاوقتیکہ پانی وغیرہ سے اس کا ازالہ نہ کیا جائے۔حدث کے لغوی معنی خود اس حالت کے عارضی ہونے پر دلالت کرتے ہیں اور شریعت اسلامیہ نے خفیف سے خفیف غلاظت کے جسم سے خارج ہونے کو بھی جو بصورت ہوا ہوتی ہے، طہارت میں فرق آنے پر ایک ظاہری علامت قرار دیا ہے۔کیونکہ اس غلاظت کے اندر رہنے سے جسم کی صحت میں خلل پیدا ہو جاتا ہے۔صحت قائم نہیں رہ سکتی جب تک یہ غلاظتیں باہر نہ آجائیں۔روحانی صحت بھی اس سے قائم رہتی ہے کہ نفس کی غلاظتیں باہر نکال دی جائیں اور اس غرض کے لئے نماز کو اسی طرح ایک ذریعہ بنایا گیا ہے، جس طرح وضوء کو جسمانی پاکیزگی کے لئے۔اس حکمت کی طرف توجہ دلانے کے لئے حدث کی حالت پیدا ہونے پر طہارت اور وضوء لازمی قرار دیا گیا ہے۔مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَلَكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُم۔۔۔(المائدة: ۷) کے ارشاد سے دراصل یہی نکتہ سمجھانا مقصود ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ پاک وصاف کرنا چاہتا ہے، اسی طرح جس طرح ظاہری گندگی پانی سے پاک وصاف کر دی جاتی ہے۔ان غلاظتوں کے نکلنے پر نہ صرف قیام صحت کا دارو مدار ہے بلکہ سلسلہ حیات اور اس کے نشو و نما کے ساتھ ان کا گہرا تعلق بھی ہے اور اللہ تعالیٰ