صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 221 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 221

صحيح البخاري - جلد ا تشریح: ۲۲۱ - كتاب الوضوء أَنَّ فَرْضَ الْوُضُوْءِ مَرَّةً مَرَّةً : عنوانِ باب میں آیت مذکورہ بالا کے ماتحت امام بخاری نے یہ حوالہ جو نقل کیا ہے : أَنَّ فَرْضَ الْوُضُوْءِ مَرَّةً مَرَّةً اس سے ان کا مقصد کم از کم مقدار بتلانا ہے، جس پر وضو کا لفظ اطلاق پاسکتا ہے۔یعنی ایک بار دھونے سے وضوء کا فرض ادا ہو جاتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار بھی دھویا۔اسلام نے جیسا کہ ہر بات میں اسراف سے روکا، وضوء میں بھی اس سے روکا ہے۔كَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ الْاِسْرَافَ: یہ اشارہ ہے اُن احادیث کی طرف جن میں اسراف سے منع کیا گیا ہے۔خواہ انسان ایک ندی کے کنارے بیٹھا ہوا وضوء کیوں نہ کر رہا ہو۔نیز اس سے امام احمد بن حنیل اور امام شافعی وغیرہ علماء کے اختلاف کی طرف بھی اشارہ کرنا مقصود ہے۔ان کے نزدیک اگر کوئی شخص تین بار سے زیادہ دھوئے تو یہ فعل مکروہ ہوگا، حرام نہیں ہوگا کہ وضوء اس سے باطل ہو جائے ، جیسا کہ بعض فقہاء کا خیال ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۰۸) باب ۲ : لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ کوئی نماز بغیر طہور کے قبول نہیں کی جاتی ١٣٥ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۱۳۵: ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا الْحَنْظَلِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ کہا: عبد الرزاق نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: معمر أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ أَنَّهُ نے ہمام بن منبہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ چلایا۔انہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو یہ کہتے ہوئے سنا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ که رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بے وضوء مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ ہو جائے ، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ، جب تک کہ وہ وضوء نہ کرے۔ایک شخص نے جو حضرموت کا رہنے حَضْرَ مَوْتَ مَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ فَسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ۔طرفه: ٦٩٥٤۔والا تھا، پوچھا: ابو ہریرہ ! یہ بے وضوء ہونا کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: پھسکی یا پاد۔تشریح : لَا تُقْبَلُ صَلوةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ: یہ الفاظ یک حدیث نبوی کے ہیں جوسلم اور ابوداؤد وغیرہ نے مختلف سندوں کے ساتھ نقل کی ہے۔(دیکھئے مسلم، کتاب الطهارة۔باب وجوب الطهارة للصلوة۔نيز ابو داؤد۔كتاب الطهارة باب فرض الوضوء ) طہور کے معنی پاکیزگی۔یہ لفظ وضوء اور غسل وغیرہ۔پاکیزگی کے تمام طریقوں پر حاوی ہے۔اسلامی نماز در حقیقت پاکیزگی کا کامل مفہوم اپنے اندر رکھتی ہے۔جسم کی پاکیزگی بھی ایک ایسی ضروری شرط ہے جس کے بغیر کوئی نماز قبول نہیں ہوتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا: جوشخص