صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 223 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 223

صحيح البخاري - جلد ا ۲۲۳ - كتاب الوضوء نے جب حدث کی حالتیں بیان کی ہیں تو جنبی ہونے کی حالت کا سب سے پہلے ذکر کر کے یہ حکم دیا ہے: وَإِنْ كُنتُم جنبًا فَاطَّهَرُوا (المائدة: ۷) جنبی ہونے کی حالت میں نہاؤ اور نہا کر اچھی طرح پاک وصاف ہو جاؤ۔جنبی ہونے کی حالت میں طہارت پر اس لئے زور دیا ہے کہ یہ حدث کی وہ حالت ہے جس میں انسان کو اپنی شہوت میں بکلی انہاک اور کامل محویت حاصل ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے اس کا سارا وجود متاثر ہوتا ہے۔شہوت جنسین کا مظاہرہ جس قدر زیادہ جوش و خروش اپنے اندر رکھتا ہے اور جس قدر زیادہ وہ انسان کو اپنے حدود سے نکالنے کے لئے خود سر ہو جاتا ہے۔اسی قدر زیادہ معنوی طہارت و پاکیزگی کی ضرورت ہے۔اعتراض کرنے والے یہ اعتراض تو کر دیتے ہیں کہ ہوا خارج ہونے سے ظاہری پاکیزگی میں کیا فرق آجاتا ہے خصوصا ایسی حالت میں کہ انسان نہا دھو کر باوضو بیٹھا ہو؟ مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ شریعت اسلامیہ نے حدث کے ساتھ وضوء اور طہارت کو کیوں ضروری قرار دیا ہے۔اصل غرض و غایت سمجھنے سے ان کا اعتراض خود بخود در فع ہو جاتا ہے۔شریعت کے اس حکم میں یہ غرض پنہاں ہے کہ خفیف سے خفیف باطنی آلائش اور گند بھی روحانی صحت اور پاکیزگی کو مکدر کرنے کے لیے مہلک زہر ہے۔مسلمان یہ امر ہمیشہ خیال میں رکھے اور اپنی نماز کے ذریعہ سے ہر ایک قسم کے گند سے نجات پا کر کامل پاکیزگی حاصل کرے، اس غرض کی عظمت و اہمیت قائم رکھنے کے لیے شریعت اسلامیہ نے تھوڑے اور بہت کی کوئی شرط نہیں لگائی اور اس امر میں کسی قسم کا بھی استثناء جائز نہیں رکھا۔یعنی یہ نہیں کہا کہ اگر کوئی نہا دھو کر آئے تو ہوا خارج ہونے سے نماز کے لیے اس کو وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔اگر اس قسم کی کوئی بھی استثنائی صورت رکھی جاتی تو نہ صرف اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا، بلکہ مسجدوں کے اجتماعات کی فضا اسی طرح بگڑ جاتی جس طرح گرجوں اور دیگر معابد میں لوگوں کے اثر دھام سے عام طور پر بگڑ جاتی ہے۔اور اس کی یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ لوگ نہا دھو کر صاف ستھرے لباس پہن کر آتے ہیں، مگر چونکہ اُن کی شریعت میں حدث کے متعلق اس قسم کی کوئی پابندی نہیں اور ہر شخص کا یہی خیال ہوتا ہے کہ صرف وہی اکیلا ہوا خارج کر رہا ہے۔اس لیے ایک آدھ گھنٹے میں ساری فضا بد بودار ہو جاتی ہے۔بیت المقدس اور دمشق میں عیسائی اپنے تہواروں پر مجھے بھی مدعو کیا کرتے تھے اور فضا کی یہ بگڑی ہوئی حالت ایسے کھلے طور پر محسوس ہوتی کہ اور تو اور ؛ میرے بعض عیسائی دوست بھی گھبرا اُٹھتے اور جلدی ہی باہر کی کھلی ہوا کے لیے مجبور ہو جاتے۔مگر اسلام نے اس معاملہ کے متعلق افراد و اجتماع میں کوئی فرق نہیں کیا ہے۔کیونکہ افراد کی پاکیزگی یا گندگی ، اجتماع کی پاکیزگی یا گندگی سے کوئی علیحدہ چیز نہیں۔اس لیے طہارت کا معنی ذہن میں ہمیشہ کے لیے قائم رکھنے کے لیے یہ خاص تدبیر اختیار کی اور اس کے لیے کوئی استثنا نہیں رکھی۔بلکہ طہارت کے ان معنوں پر اتنا زور دیا ہے کہ بیماری کی حالت میں یا پانی نہ ملنے پر تیم کرنے کا حکم دے کر مسلمان کے ذہن کو ایک لمحہ کے لیے بھی اس معنی سے خالی نہیں رہنے دیا کہ روحانی طہارت و صحت کی بقا گندگی کے دور ہو جانے پر ہے۔فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا : یعنی پاکیزہ مٹی کا قصد کرو۔تمیم کے معنی کسی جہت کا قصد کرنا۔پاکیزگی کو اپنا اصل مقصود اور نصب العین بنانے کی وجہ سے ہی تیم کو تیم کہتے ہیں۔شریعت نے پانی کا قائم مقام جو تلاش کیا تو محض اس لیے کیا