صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 220
صحيح البخاري - جلد ا ۲۲۰ -۴- كتاب الوضوء اسلامی اصول کی فلاسفی کے ابتدائی صفحوں ( ۵ تا ۷ ) میں اس بات کو بد دلائل واضح کیا گیا ہے کہ جسم کے ظاہری حالات کا روحانی حالات کے ساتھ شدید تعلق ہے۔اسی مقصد کو مدنظر رکھ کر قرآن مجید نے نماز کو جو کہ دراصل روحانی عبادت ہے، شروع کرنے سے پہلے وضوء کرنے کا حکم دیا ہے اور اس حکم کے ساتھ وضوء کی یہ غرض و غایت کھلے الفاظ میں بیان بھی کر دی ہے۔چنانچہ جس آیت کی طرف امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے شروع باب میں اشارہ کیا ہے، اس کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مَا يُرِيدُ اللهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمُ تَشْكُرُونَ (المائده:) یعنی اللہ تعالیٰ اس حکم سے تمہیں کسی تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہتا، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر پوری کرے۔تا کہ تم یہ دیکھ کر کہ تم کس گندی حالت میں تھے اور پھر کہاں پہنچ گئے ہوشکر گزار بنو۔قرآن مجید نے جہاں بھی نعمت کے کمال کا ذکر کیا ہے وہاں دنیوی و روحانی دونوں ترقیاں مراد لی ہیں۔اس آیت نے وضو کی اصل غرض و غایت واضح کر دی ہے اور وضوء کے لغوی معنی بھی یہی ہیں: پاک اور صاف ستھرا رہنا اور خوبصورت ہونا۔(لسان العرب تحت لفظ وضو ) بَابِ ۱ : مَا جَاءَ فِي الْوُضُوْءِ وضو کے متعلق وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : إِذَا قُمْتُمْ إِلى اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق (جو حدیثیں آئی الصَّلَوةِ فَاغْسِلُوا وُجُوْهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ ہیں) : إِذَا قُمْتُمُ إِلَى الصَّلوة۔۔۔۔(یعنی) جب تم إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولیا کرو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ (المائدة: ٧) قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَبَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوک۔ابوعبداللہ (بخاری) نے الله کہا: اور رسول اللہ ﷺ نے بیان کر دیا ہے کہ ایک عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَرْضَ الْوُضُوْءِ مَرَّةً ایک بار ہی دھونا فرض ہے اور آپ نے دو ( دو ) دفعہ مَرَّةً وَتَوَضَّأَ أَيْضًا مَّرَّتَيْنِ {مَرَّتَيْنِ } بھی دھویا اور تین ( تین ) دفعہ بھی اور تین بار سے وَثَلَاثًا وَ لَمْ يَزِدْ عَلَى ثَلَاثٍ وَكَرِهَ أَهْلُ زیادہ نہیں دھویا۔اور اہل علم نے وضو میں بھی اسراف الْعِلْمِ الْإِسْرَافَ فِيْهِ وَأَنْ يُجَاوِزُوْا فِعْلَ کو نا پسند کیا ہے اور اس امر کو بھی کہ لوگ نبی ﷺ کے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔فعل سے تجاوز کریں۔فتح الباری مطبوعہ بولاق میں مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ درج ہیں۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۳۰۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔