صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 219 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 219

صحيح البخاري - جلد ا ۲۱۹ ۴- كتاب الوضوء نال العالم كِتَابُ الْوُضُوء ہمارے سید و آقانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیرت انگیز اصلاح کی اہمیت و عظمت کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے جس قوم کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا، وہ تمدن کے نہایت ہی اونی حالات میں چکر لگا رہی تھی۔قرآن مجید نے ان کی حالت کا نقشہ ان مختصر الفاظ میں کھینچا ہے: إِنْ هُمْ إِلَّا كَالُا نْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا۔(الفرقان: ۴۵) وہ تو بالکل چوپایوں کی طرح ہیں۔بلکہ باعتبار راستہ کے وہ تو حیوانوں سے بھی گئے گزرے ہیں۔یعنی حیوان تو اس راستہ پر چل رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر کیا ہے ، مگر یہ لوگ نہیں۔یہ تو اپنے طبعی راستے سے بھی بہکے ہوئے ہیں۔اسی لئے قرآن مجید نے ان کی اصلاح بالکل ابتدائی حالتوں سے شروع کی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاک نمونہ سے ان کو کھانے پینے ، اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے ، نہانے اور صاف ستھرا رہنے کے متعلق آداب سکھلائے اور اس طرح ان کو پہلے طبعی حالتوں کی کج روی سے نکالا اور پھر با اخلاق و با خدا انسان بنا کر دنیا و آخرت کی ہر نعمت کا انہیں وارث بنا دیا۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک نہایت گری ہوئی قوم میں مبعوث ہوئے تھے، اس لئے آپ کو کامل اصلاح کا موقع ملا اور آپ بنی نوع انسان کے ایک حصہ کی طبعی، اخلاقی اور روحانی حالتوں کی کامل اصلاح کر کے کامل مصلح کا لقب پانے کے مستحق ٹھہرے اور جو کتاب آپ کو دی گئی ہے وہ بھی اس وجہ سے دنیا کی تمام ہدایتوں کے مقابلہ میں ان الفاظ کے ساتھ اکمل واتم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے: اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔(المائده :(۴) یعنی میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت بھی تمہیں پوری کی پوری دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہے۔چونکہ قرآن شریف کا مقصد یہ ہے کہ حیوان سے انسان، انسان سے با اخلاق انسان اور با اخلاق انسان سے باخدا انسان بنا دے۔اس لئے اس کی تعلیم ان تین قسم کی اصلاحوں پر مشتمل ہے۔قرآن شریف روحانی ترقی میں سب سے پہلے طبعی اور اخلاقی حالتوں کی اصلاح پر زور دیتا ہے۔کیونکہ اس کے بغیر روحانی اصلاح ناممکن ہے۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: اسلامی اصول کی فلاسفی صفہ ۲ تا ۸۲- روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۱۶ تا ۳۹۶) مصلح کامل کی اصلاح کا ایک پاک نمونہ کتاب الوضوء کے مطالعہ سے بھی نظر آئے گا اور معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے کس طرح ایک مشفق باپ کی مانند انسان کو طہارت اور پاکیزگی کے آداب سکھلائے ہیں۔بلکہ والدین اکثر اپنے بچوں کی تربیت کا اتنا خیال نہیں رکھتے جتنا کہ آپ نے رکھا۔آپ نے ظاہری پاکیزگی پر اتنا زور دیا ہے کہ کسی دینی معلم و مقتدا نے اتناز ور نہیں دیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہری پاکیزگی بھی باطنی پاکیزگی پر اثر ڈالتی ہے۔جیسا کہ کتاب