صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 218 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 218

حيح ری جلد ا ۲۱۸ ٣- كتاب العلم مَا يَلْبَسُ : سوال نہایت مختصر ہے اور اس کا جواب لمبا ہے۔اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ بعض وقت سوال کرنے والے کا سوال تو چھوٹا ہوتا ہے مگر اس کی تشفی نہیں ہوتی۔جب تک کہ اس کو جامع مانع جواب نہ دیا جائے۔تعلیم کے ضمن میں یہ اکتالیسواں ادب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی تعلیم وتربیت میں وہ تمام امور ملحوظ رکھے جو ایک دانشمند اور حاذق استاد و مربی کے شایاں ہیں۔امام ابن رشد نے امام بخاری کے اس خاتمہ کے متعلق ایک لطیف بات کہی ہے جو امام موصوف کے طریقہ استدلال و بیان کے عین مطابق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ امام بخاری نے کتاب العلم کو اس حدیث پر جو ختم کیا ہے تو یہ واضح کرنے کے لئے کہ علم کے متعلق آداب بیان کرنے میں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کی ہے۔بعض ضروری باتیں بیان کر دی ہیں اور بعض پڑھنے والوں پر چھوڑ دی ہیں۔اسی نکتہ کی طرف توجہ دلانے کے لئے باب نمبر ۴۸ میں بھی اشارہ کیا ہے: مَنْ تَرَكَ بَعْضَ الاخْتِيَارِ مَخَافَةً أَنْ يَقْصُرَ فَهُمُ بَعْضِ النَّاسِ۔(فتح الباری جزء اول صفحه ۳۰۵) منکرین احادیث جو یہ کہتے ہیں کہ ان سے کچھ فائدہ نہیں، ان کے لئے ان آداب میں ایک بہت بڑا سبق ہے۔وہ آج پڑھ پڑھا کر یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اجی یہ ایسی باتیں ہیں کہ عقل سے بھی معلوم ہوسکتی ہیں۔مگر ان احادیث کی عدم موجودگی میں یہ کیسے کہہ سکتے تھے کہ ہمارا رسول ( فَدَتُهُ أَنفُسُنَا ) اپنے اندر ایک کامل اسوہ رکھتا ہے۔کتاب العلم کے مطالعہ سے یہ بات از خود ہویدا ہو جاتی ہے کہ صحابہ کرام کی علمی تربیت بھی اعلیٰ درجہ کی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ تبلیغ کے کما حقہ اہل تھے اور یہ کہ ان کی روایتوں پر پورا پورا اعتماد کیا جاسکتا ہے۔مقدمہ کتاب میں ان تمام امور کو یکجا جمع کر دیا گیا ہے جو اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں۔