صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 217
صحيح البخاري - جلد ا ۲۱۷ بَاب ٥٣ : مَنْ أَجَابَ السَّائِلَ بِأَكْثَرَ مِمَّا سَأَلَهُ جو شخص پوچھنے والے کو جتنا اس نے پوچھا ہے اس سے زیادہ جواب دے ٣- كتاب العلم ١٣٤ : حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ :۱۳۴ ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: ابوذئب کے أَبِي ذِنْبِ عَنْ نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ بیٹے نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِ حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمر نے نبی ہے الزُّهْرِيَ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ سے روایت کی۔نیز زہری سے بھی منقول ہے۔النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا انہوں نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمرؓ سے یہ سَأَلَهُ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ فَقَالَ لَا يَلْبَسُ روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے الْقَمِيْصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا السَّرَاوِيْلَ پوچھا کہ احرام والا کیا پہنے؟ فرمایا: نہ قمیص پہنے اور نہ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ أَوِ پگڑی اور نہ پاجامہ اور نہ باراتی ( یعنی لمبی ٹوپی) اور الزَّعْفَرَانُ فَإِنْ لَّمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ نہ وہ کپڑا جس میں ورس یا زعفران لگی ہو اور اگر وہ جوتا فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى نہ پائے تو موزے پہن لے اور چاہیے کہ وہ ان کو اس يَكُوْنَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ۔قدر کاٹ دے کہ وہ ٹخنوں کے نیچے تک ہو جائیں۔اطرافه : ٣٦٦ ۱٥٤٢ ، ۱۸۳۸، ١٨٤۲، ٥٧٩٤، ٥۸۰۳، ٥٨٠٥، ٥٨٠٦، ٥٨٤٧، ٥٨٥٢۔تشريح مَنْ أَجَابَ السَّائِلَ بِأَكْثَرَ مِمَّا سَأَلَهُ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو یہ گیا تھا کہ احرام والا کیا پہنے اور جواب آپ نے یہ دیا کہ یہ بھی نہ پہنے اور یہ بھی نہ پہنے۔یہ اس لئے کہ پہننے کی چیزیں تو بہت سی ہیں اگر وہ گئی جاتیں تو ایک لمبی فہرست ہو جاتی اور پھر وہ فہرست خواہ مخواہ تخصیص کے معنی میں لے لی جاتی۔اس لئے آپ نے چند اُن چیزوں کا نام لیا جن کا پہنا اور استعمال کرنا محرم کے لئے جائز نہیں تھا ( فتح الباری جزء اول صفر ۴ ۳۰) آپ نے جواب بھی مختصر دیا اور جواب بھی ایسا جو اپنے اندر پوری تفصیل رکھتا ہے اور سوال کرنے والے کے لئے جواز کا میدان کھلا چھوڑ دیا ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باب کا عنوان قائم کرتے ہوئے بِأَكْثَرَ مِمَّا سَأَلَهُ کیوں کہا؟ بظاہر آپ کا جواب اس کے سوال سے زیادہ نہیں۔اس نے یہی پوچھا تھا کہ کیا پہنے۔آپ نے فرمایا: ان چیزوں کے سوا جو چاہو پہنو۔دراصل امام موصوف نے سوال و جواب کے ان الفاظ کو مدنظر رکھ کر عنوان باندھا ہے۔