صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 216
صحيح ی جلد ا ۲۱۶ ٣- كتاب العلم رَجُلًا قَامَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ سے روایت کی کہ مسجد میں ایک شخص کھڑا ہوا اور اس اللَّهِ مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ فَقَالَ رَسُولُ نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس مقام سے اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلَّ أَهْلُ آپ ہمیں احرام باندھنے کے لئے فرماتے ہیں؟ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلَّ أَهْلُ آپ نے فرمایا: مدینہ والے ذی الخلیفہ سے احرام الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُ أَهْلُ نَجْدٍ باندھیں اور شام والے مخفہ سے احرام باندھیں اور مِنْ قَرْنٍ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَيَزْعُمُونَ أَنَّ نجد والے قرن سے احرام باندھیں اور حضرت ابن عمر رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَيُهِلُ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَّلَمْلَمَ وَكَانَ ابْنُ نے فرمایا کہ یمن والے یلملم سے احرام باندھا کریں عُمَرَ يَقُوْلُ لَمْ أَفْقَهُ هَذِهِ مِنْ رَّسُولِ اللهِ اور حضرت ابن عمر کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات میں نہیں سمجھا۔اطرافه ١٥۲۲، ١٥٢٥، ١٥٢٧، ١٥٢٨- ریح : ذِكُرُ الْعِلْمِ وَالْفُتْيَا فِى الْمَسْجِدِ : امام بخاری کے نزدیک علمی مذاکره و درس و تدریس کے لئے سب سے بہتر جگہ مسجدیں ہیں اور جو لوگ مسجدوں کو محض عبادت کے لئے مخصوص سمجھتے ہیں ، وہ ان کے خلاف ہیں۔علم ہی سے در حقیقت مسجدوں کی روحانی آبادی قائم رہتی ہے۔اس لئے سلف صالح نے مسجد میں بطور درس گاہوں کے استعمال کیں۔صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے بیت المقدس کو فتح کر کے مسجدوں میں درس گاہیں کھولیں اور لاکھوں کی جائیدادیں وقف کیں۔انہی میں سے حرم بیت المقدس کے پاس ان کا ایک قائم کردہ دارالحدیث بھی ہے جو مسجد ہی تھی۔فرانسیسیوں نے بعد میں اس کو گر جا بنا لیا اور اس کے اردگرد انہوں نے ایک عالی شان تبلیغی کالج بنایا ہے۔ترکوں نے اپنی حکومت کے آخری دنوں میں اس پر قبضہ کر کے صلاح الدین ایوبیہ کالج کی بنیاد ڈالی۔جس کی غرض بھی تبلیغ اور دیندار کارکن پیدا کرنا تھی۔گرجے کی موجودہ قبلی دیوار صلاح الدین ایوبی کے زمانہ سے ہے اور اس پر پرانا کتبہ اب تک موجود ہے۔( پہلی ) عالمگیر جنگ کے بعد اب پھر فرانسیسیوں کے قبضہ میں ہے۔ہندوستان کے مغل بادشاہوں نے بھی مسجدوں میں درسگاہیں قائم کر کے ان سے بہت بڑا تبلیغی کام لیا ہے۔مگر آج وہ مسجدیں بالکل غیر آباد ہیں۔نہ وہ علم ہے نہ اسلامی روح۔مسلمانوں کے ہاتھ میں تبلیغ اسلام کے لئے مسجدیں ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔بشرطیکہ وہ انہیں صحیح طور پر استعمال کریں۔روایت نمبر ۱۳۳ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام پوری دیانتداری سے روایت نقل کرتے تھے۔امام بخاری حدیث مذکورہ بالا کو کتاب الحج (کتاب المناسک ) میں بھی لائے ہیں۔مقامات احرام کی تشریح کے لیے کتاب المناسک ( کتاب الحج ) باب ۷۰۵ تا ۱۳ دیکھئے۔دوسری روایت میں لَمُ أَفْقَهُ کی بجائے لَمُ أَسْمَعُ ہے یعنی انہوں نے یہ الفاظ نہیں سنے۔اس لئے کہا: يَزْعُمُونَ لوگ کہتے ہیں۔