صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 215 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 215

صحيح البخاري - جلد ا ۲۱۵ باب ٥١ : مَنِ اسْتَحْيَا فَأَمَرَ غَيْرَهُ بِالسُّؤَالِ جو شخص خود شرم کرے اور دوسرے سے پوچھنے کے لئے کہے ٣- كتاب العلم ۱۳۲ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۱۳۲ ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: عبد اللہ بن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ داؤد نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش مُنْذِرِ الثَّوْرِيِّ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ نے مندر ثوری سے، انہوں نے محمد بن حنفیہ سے، عَنْ عَلِي قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَاءً محمد نے حضرت علی بن ابی طالب ) سے روایت کی۔فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی انہوں نے کہا: میں ایسا آدمی تھا جس کی ندی بہت نکلتی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ فِيْهِ تھی۔میں نے مقداد سے کہا کہ وہ نبی ﷺ سے مسئلہ پوچھیں۔تو انہوں نے آپ سے پوچھا۔آپ نے الْوُضُوءُ۔اطرافه: ۱۷۸، ۲۶۹ تشریح: فرمایا: اس میں وضو ہی کرنا ہوگا۔مَنِ اسْتَحْيَا فَأَمَرَ غَيْرَهُ بِالسُّؤَالِ : اس باب میں چالیسواں ادب سکھلایا ہے کہ اگر کوئی نس بوجہ غلبہ شرم و حیاء خود نہیں پوچھ سکتا تو وہ کسی دوسرے شخص کے ذریعہ سے دریافت کرلے۔عورتیں اپنے خاوندوں کے ذریعہ سے دریافت کر سکتیں ہیں۔مَذَاء: وہ جس کی مذی کثرت سے نکلتی ہے۔مبالغہ کا صیغہ ہے۔مذی ایک رطوبت ہے جو منی کی نسبت رقیق ہوتی ہے۔حضرت علیؓ آپ کے داماد تھے، غالبا وہ اس وجہ سے شرماتے تھے۔غرض صحابہ کرام عورتیں اور مرد مسائل دینیات دریافت کرنے اور سمجھنے میں نہیں بچکچاتے تھے اور اس لئے ان کی معلومات میں وضاحت اور تعیین ہوتی۔باب ٥٢ : ذِكْرُ الْعِلْمِ وَالْفُتْيَا فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں علم اور فتویٰ پوچھنے پوچھانے کے متعلق ذکر ۱۳۳ : حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيْدٍ قَالَ :۱۳۳ مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: حضرت نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عبد اللہ بن عمر بن الخطاب کے ( آزاد کردہ غلام نافع الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ نے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر