صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 207 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 207

صحيح البخاری جلد ) ۲۰۷ ٣- كتاب العلم بَاب ٤٧ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى : وَمَا أُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (بني إسرائيل : ٨٦) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: { اور تمہیں معمولی علم کے سوا کچھ نہیں دیا گیا؟ ١٢٥ : حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ :۱۲۵ ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا عبد الواحد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں اعمش سلیمان بن مہران) نے بتلایا۔ انہوں نے الْأَعْمَشُ سُلَيْمَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي ابراہیم سے، ابراہیم عبد اللہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چلا جا رہا تھا اور آج رہا آپ خِرَبِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى ایک کھجور کی چھڑی پر جو کہ آپ کے پاس تھی ٹیک لگائے عَسِيْبٍ مَّعَهُ فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِّنَ الْيَهُودِ فَقَالَ ہوئے تھے۔ اسی اثناء میں آپ چند یہودیوں کے پاس صلى الله بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ وَقَالَ سے گزرے تو وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس سے روح کے متعلق پوچھو ان میں سے بعض نے کہا: اس سے نه بَعْضُهُمْ لَا تَسْأَلُوْهُ لَا يَجِيءُ فِيْهِ بِشَيْءٍ نہ پوچھو۔ ایسانہ ہو کہ کوئی ایسی بات بیان کر دے جو تم تَكْرَهُوْنَهُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَنَسْأَلَتَهُ فَقَامَ نا پسند کرو اور بعض نے کہا کہ ہم تو ضرور پوچھیں گے۔ اس رَجُلٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ما پر ان میں سے ایک شخص اُٹھا اُٹھا اور اس نے کہا: ابو قاسم ! الرُّوْحُ فَسَكَتَ فَقُلْتُ إِنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ روح کیا ہے؟ آپ خاموش رہے۔ میں سمجھا : آپ کو فَقُمْتُ فَلَمَّا انْجَلَى عَنْهُ فَقَالَ : وحی ہورہی ہے اور میں کھڑا ؟ ہے اور میں کھڑا ہو گیا۔ جب وحی کی حالت آپ سے بہٹ گئی تو آپ نے فرمایا: وَيَسْتَلُونَکَ وَيَسْأَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ عَنِ الرُّوح ۔ یعنی اور وہ تجھ سے روح کے متعلق سوال أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيْلًا کرتے ہیں۔ تو کہہ دے کہ روح میرے رب کے حکم (بنی اسرائیل: ٨٦) سے ہے اور تمہیں معمولی علم کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔ قَالَ الْأَعْمَشُ { هِيَ كَذَا فِي قِرَاءَتِنَا اعمش نے کہا کہ ہماری قرأت میں یہ آیت یوں وَمَا أُوْتُوْا ۔ } اطرافه: ۴۷۲۱ ، ٧۲۹۷، ٧٤٥٦، ٧٤٦٢۔ ہے: وَمَا أُوتُوا یعنی انہیں نہیں دیا گیا۔ } یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۲۹۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔