صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 206
صحيح البخاري - جلد ا باب ٦ ٤ : السُّؤَالُ وَالْفُتْيَا عِنْدَ رَمْي الْحِمَارِ کنکریاں پھینکتے وقت سوال کرنا اور فتوی دینا ٣- كتاب العلم ١٢٤: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا :۱۲۴ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا کہا: عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے زہری سے۔زُہری نے عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عیسیٰ بن طلحہ سے عیسی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے عَنْ عِيْسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ روایت کی۔انہوں نے کہا : میں نے نبی ﷺ کو جمرة عَمْرِو قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (عقبہ) کے پاس دیکھا، جبکہ آپ سے مسئلے پوچھے وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ وَهُوَ يُسْأَلُ فَقَالَ جارہے تھے۔ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ! میں نے کنکر پھینکنے سے پہلے قربانی کر دی ہے۔آپ نے فرمایا: رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ (اب) پھینک لے۔کوئی حرج نہیں۔دوسرے نے کہا: یا أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ آخَرُ يَا رسول اللہ ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے سرمنڈ والیا رَسُوْلَ اللهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ ہے۔آپ نے فرمایا: (اب) قربانی کرلے۔کوئی حرج انْحَرْ وَلَا حَرَجَ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ نہیں۔آپ سے کوئی بات بھی ایسی نہیں پوچھی گئی جس کو آگے پیچھے کیا گیا ہو۔مگر آپ نے یہی فرمایا: (اب) قدِمَ وَلَا أُخِرَ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ کرلے اور کوئی حرج نہیں۔اطرافه: ۸۳، ۱۷۳۶ ، ۱۷۳۷، ۱۷۳۸، ٦٦٦٥۔تشریح: باب (۴۶،۴۵) مستقل عنوانوں سے باندھ کر امام بخاری نے علم کے متعلق چونتیسویں اور پینتیسویں ادب کی طرف توجہ دلائی ہے۔نیز دو ایسی باتوں کے جواز کا فتویٰ دیا ہے جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔بعض لوگ اس طرح کھڑے ہو کر عالم سے پوچھنا جائز نہیں سمجھتے اور نہ ہی ایسے وقت پوچھنا جائز سمجھتے ہیں جب انسان کسی عبادت میں مشغول ہو۔امام بخاری نے ایسے اعمال کے اثناء میں پوچھنے اور جواب دینے کو جائز قرار دیا ہے جن میں خاص توجہ یا استغراق نہ ہو۔مگر الفاظ عِندَ رَمُ الْجَمَارِ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بحالت رمی الجہار آپ سے پوچھا رَمْيِ گیا۔( فتح الباری جزء اول صفحه ۲۹۴)