صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 208
صحيح البخاری جلد ا ۲۰۸ ٣- كتاب العلم اور تشريح : وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا: باب کاعنوان اپنے مفہوم و مطالب میں نہایت واضح ہے کہ علم الہی غیر متناہی ہے اور انسان کو بہت کم حصہ دیا گیا ہے۔ انبیاء بي وَمَا أُوتِيتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا میں مخاطب ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ خیال کرنا کہ آپ کو سارے کا سارا علم دیا گیا تھا۔ اس آیت کے منشاء کے خلاف ہے۔ آیت مذکورہ سورہ بنی اسرائیل میں ہے جو مکی ہے اور روایت نمبر ۱۲۵ میں بیان کردہ واقعہ مدینہ کا ہے۔ اس واقعہ سے پہلے یہ آیت نازل ہو چکی تھی ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ) کا کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سوال پر خاموش رہے اور میں سمجھا کہ وحی ہو کہ وحی ہو رہی ہے، یہ ان کا اپنا خیال تھا۔ قُلْتُ کا لفظ وسیع معنی رکھتا ہے۔ سو ۔ معنی رکھتا ہے۔ سوچنے، سمجھنے، خیال کرنے کے مفہوم میں بھی عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔ وہ آنحضرت وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاموش ہونے سے یہ سمجھے کہ وحی ہو رہی ہے۔ حالانکہ خاموشی سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ جواب سوچ رہے ہوں یا کسی آیت کو تلاش کر رہے ہوں ۔ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَی کے ماتحت صحابہ کا یہ اعتقاد تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات وحی کی تجلی سے خالی نہیں ہوتی ۔ اس لئے کسی آیت سے استنباط کرنے کو بھی صحابہ وحی کے نام سے تعبیر کرتے تھے۔ امام بخاری نے علم کے ضمن میں یہ چھتیسواں ادب سکھلایا ہے کہ ہمہ دان صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کم مایہ علماء کے لئے اس میں ایک سبق ہے جو چند کتابیں پڑھ پڑھا کر ہمہ دانی کا دعوی کرتے اور ہر بات میں خواہ مخواہ دخل دے دیتے ہیں۔ باب ٤٨ : مَنْ تَرَكَ بَعْضَ الِاخْتِيَارِ مَخَافَةَ أَنْ يَقْصُرَ فَهُمُ بَعْضِ النَّاسِ عَنْهُ فَيَقَعُوْا فِي أَشَدَّ مِنْهُ جو شخص کسی پسندیدہ بات کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ بعض لوگوں کی سمجھ اس سے قاصر رہے گی اور وہ اس سے بڑھ کر مشکلات بڑھ کر مشکلات میں پڑ جائیں گے ١٢٦ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ۱۲۶ : ہم سے عبید اللہ بن موسی نے بیان کیا۔ انہوں عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ نے اسرائیل سے۔ اسرائیل نے ابو اسحاق سے۔ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ كَانَتْ ابو اسحاق نے اسود سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے: عَائِشَةُ تُسِرُّ إِلَيْكَ كَثِيرًا فَمَا حَدَّثَتْكَ حضرت ابن زبیر نے مجھ سے کہا: حضرت عائشہ آپ سے بہت راز کی باتیں کیا کرتی تھیں۔ انہوں فِي الْكَعْبَةِ قُلْتُ قَالَتْ لِي قَالَ النَّبِيُّ نے آپ کو کعبہ کے متعلق کیا بتلایا؟ میں نے کہا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَوْلَا انہوں نے بتلایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قَوْمُكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عائشہ ! اگر تیری قوم کا زمانہ قریب نہ ہوتا۔ حضرت