صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 205
صحيح البخاري - جلد ا ۲۰۵ ٣- كتاب العلم یہ ملاحظات بتلاتے ہیں کہ راویوں کے اختلاف کے ساتھ روایت میں اختلاف ہو جانا ایک امر واقعہ ہے اور ہر حدیث کے الفاظ کی بابت یہ اصرار کہ یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی ہیں ؛ درست نہیں۔کیونکہ احادیث بالمعنی بھی روایت ہوئی ہیں۔امام بخاری نے یہی مقصد واضح کرنے کے لئے یہ باب باندھا ہے۔اگر چہ انہوں نے عنوان بیان کرتے ہوئے عموم کا رنگ رکھا ہے۔مگر حضرت ابو ہریرہ کی روایات کے ذکر کرنے کے بعد الإِنصَاتُ لِلْعُلَمَاءِ کا باب باندھ کر اس عنوان اور روایت کو انتخاب کر کے یہ بتلایا ہے کہ ایک ہی عالم سے سننے والوں میں روایت کرتے وقت کیسے کیسے اختلاف واقع ہوتے ہیں اور اس کا سبب بجز اس کے کچھ نہیں کہ سب سننے والے یکساں نہیں ہوتے مگر صحابہ کرام کی روایتوں میں یہ لفظی اختلاف بھی کم ہے۔وہ عاشقانہ انداز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنتے ، یاد کرتے اور بلا کم و کاست دوسروں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔بَاب ٤٥ : مَنْ سَأَلَ وَهُوَ قَائِمٌ عَالِمًا جَالِسًا ایک عالم سے جو بیٹھا ہو کوئی کھڑے کھڑے سوال کرے ۱۲۳: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا ۱۲۳ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا: جریر نے مجھے جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلِ عَنْ بتلایا۔انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے، أَبِي مُوْسَى قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ انہوں نے حضرت ابو موسی سے روایت کی۔وہ کہتے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ تھے: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اللَّهِ مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَإِنَّ أَحَدَنَا يا رسول الله! اللہ کی راہ میں لڑنا کیا ہوتا ہے؟ کیونکہ ہم يُقَاتِلُ غَضَبًا وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً فَرَفَعَ إِلَيْهِ میں سے ایک غصے کی وجہ سے بھی لڑتا ہے اور حمیت کی رَأْسَهُ قَالَ وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلَّا أَنَّهُ وجہ سے بھی لڑتا ہے۔اس پر آپ نے اس کی طرف كَانَ قَائِمًا فَقَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُوْنَ كَلِمَةُ سر اٹھایا۔راوی نے کہا: اور آپ نے اس کی طرف سر اس لئے اٹھایا تھا کہ وہ کھڑا تھا۔آپ نے فرمایا: جو اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّ شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ ہی کا بول بالا ہو تو یہ (لڑنا ) اللہ عزوجل کی راہ میں ہوگا۔وَجَل۔اطرافه ۲۸۱۰، ٣١٢٦، ٧٤٥٨