صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 203
صحيح البخاری جلد ا ۲۰۳ ٣- كتاب العلم لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ ہمیں بغیر کرائے کے سوار کیا تھا۔آپ نے ان کی تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ: لَا تُؤَاخِذْنِي کشتی میں عمداً سوراخ کر دیا ہے تا کشتی والوں کو غرق کر دیں۔انہوں نے کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم بِمَا نَسِيْتُ {وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔حضرت موسیٰ نے کہا: عُسْرًا } (الكهف:٧٣-٧٤) فَكَانَتِ میری بھول پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجیئے اور میری اس الْأَوْلَى مِنْ مُّؤْسَى نِسْيَانًا فَانْطَلَقَا فَإِذَا بات کی وجہ سے مجھ پر سختی نہ کریں۔) سو پہلی بات غُلَامٌ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَ الْخَضِرُ حضرت موسیٰ سے بھول کر ہوئی۔اس پر وہ دونوں پھر چل پڑے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک لڑکا ہے جو برَأْسِهِ مِنْ أَعْلَاهُ فَاقْتَلَعَ رَأْسَهُ بِيَدِهِ دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔خضر نے اس فَقَالَ مُوْسَى: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ کا سر اوپر سے پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اس کا سرا کھیٹر نفس (الكهف : ٧٥) قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَّكَ ڈالا۔اس پر حضرت موسیٰ نے کہا: آپ نے تو ایک إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا پاک جان کو بغیر کسی جان کے بدلے مارڈالا ہے۔انہوں نے کہا: کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم (الكهف: ٧٦) قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَهَذَا میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ابن عیینہ کہتے أَوْكَدُ { فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ تے: (خضر کی ) یہ بات زیادہ تاکید کرنے والی تھی۔قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ {* اس پر وہ دونوں پھر چل پڑے۔یہاں تک کہ يُضَيِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِيْهَا جِدَارًا يُرِيْدُ ایک بستی والوں کے پاس آئے اور ان سے کھانا مانگا أَنْ يَنْقَضَّ (الكهف: ٧٨) قَالَ الْخَضِرُ تو انہوں نے ان کو مہمان ٹھہرانے سے انکار کر دیا۔بِيَدِهِ فَأَقَامَهُ (الكهف: ۷۸) فَقَالَ لَهُ ان دونوں نے اس بستی میں ایک دیوار دیکھی جو مُوْسَى لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا گرنے کو تھی۔} خضر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ سیدھی کر دی۔حضرت موسیٰ نے کہا: اگر آپ (الكهف: ۷۸) قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي چاہتے تو اس پر مزدوری لے لیتے۔انہوں نے کہا: وَبَيْنِكَ (الكهف: ٧٩) قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی ہے۔نبی یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۲۸۸)