صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 200
صحيح البخاری جلد ا ۲۰۰ ٣- كتاب العلم کفر ہے۔بات جس قدر واضح اور مؤثر ہوگی اور جس قدر توجہ سے سنی جائے گی اس کے بھولنے اور اس کی روایت میں اختلاف واقع ہونے کا اس قدر کم احتمال ہوگا۔(دیکھئے روایت نمبر ۷ ۱۰۴٬۹۴،۸) باب ٤٤ مَا يُسْتَحَبُّ لِلْعَالِمِ إِذَا سُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ فَيَكِلُ الْعِلْمَ إِلَى اللَّهِ عالم کے شایان ہے کہ جب اس سے پوچھا جائے کہ لوگوں میں کون سب سے بڑھ کر عالم ہے تو وہ علم کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے ۱۲۲: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۱۲۲ ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو سفیان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: عمرو نے ہم قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ سے بیان کیا، کہا: سعید بن جبیر نے مجھے خبر دی۔وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کہ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ لَوف بکالی کا خیال ہے کہ موسی بنی اسرائیل کے موسیٰ مُوسَى لَيْسَ بِمُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ نہیں ہیں۔بلکہ وہ اور موسیٰ ہیں۔اس پر حضرت ابن إِنَّمَا هُوَ مُوْسَی آخَرُ فَقَالَ كَذَبَ عَدُوٌّ عباس نے کہا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے۔حضرت ابی بن کعب نے نبی ﷺ سے روایت کرتے اللَّهِ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ ہوئے ہمیں بتلایا کہ ( آپ نے فرمایا: ) موسی نبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {قَالَ * } قَامَ نے کھڑے ہوکر بنی اسرائیل میں تقریر کی تو ان سے مُوسَى النَّبِيُّ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے کون سب سے بڑھ کر عالم فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ فَقَالَ أَنَا أَعْلَمُ ہے۔اس پر انہوں نے کہا: میں سب سے بڑھ کر عالم ہوں تو اللہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔کیونکہ فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ انہوں نے جواب میں یہ نہیں کہا تھا: اللہ ہی کو علم ہے۔فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی کی کہ میرے بندوں بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ قَالَ میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے۔وہ تجھ سے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ” قال ہے۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۲۸۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔