صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 199 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 199

صحيح البخاری جلد ا ١٩٩ ٣- كتاب العلم ان انذاری خاص پیشگوئیوں کے علاوہ بعض اور ایسے امور بھی ہوتے ہیں جن کا ہر کس و ناکس کے سامنے بیان کرنا مناسب نہیں ہوتا۔کیونکہ بعض کم فہم انکار کر دیتے ہیں۔(دیکھئے باب ۴۸ روایت نمبر ۱۲۶) بت کے معنی ہیں عام نشر و اشاعت کرنا۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ : الْبَلْعُوْمُ - مَجْرَى الطَّعَامِ : "ابوعبداللہ امام بخاری کی کنیت ہے اور ان کی یہ تشریح ظاہر میں تو بے محل معلوم ہوتی ہے کیونکہ بلعوم ایسا مشکل لفظ نہیں جس کی وضاحت کی ضرورت پڑتی۔لیکن میرے نزدیک امام بخاری اپنی عادت کے مطابق اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔موت کا خوف جو دراصل کھانے پینے کی بندش سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا ایک نقص ہے۔اس بارے میں ان کا وہی مذہب ہے جو حضرت ابوذر کا، جسے وہ کتاب العلم ( باب ۱۰) میں بیان کر چکے ہیں۔کسی شخص کی کم منہی و بلادت کی وجہ سے اس کے سامنے کسی امر کا ظاہر نہ کرنا اور بات ہے اور اپنی موت کے خوف سے کسی امر کو خفی رکھنا اور بات ہے اور ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔بَابِ ٤٣ : الْإِنْصَاتُ لِلْعُلَمَاءِ علماء کی باتیں خاموشی سے سننا ۱۲۱: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۲۱ ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِك جتلایا۔کہا : علی بن مدرک نے مجھے بتلایا۔انہوں نے عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ جَرِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ ابوزُرْعَہ سے۔ابوزرعہ نے حضرت جریر سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ فِي کی کہ نبی ﷺ نے حجتہ الوداع میں ان سے فرمایا: حَجَّةِ الْوَدَاعِ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ فَقَالَ لوگوں کو سننے کے لئے خاموش کراؤ۔اس کے بعد لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يُضْرِبُ آپ نے فرمایا: میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جاؤ۔بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔اطرافه ٤٤٠٥ ٦٨٦٩، ٧٠٨٠ تشریح : الإِنصَاتُ لِلعُلَماء : امام بخاری نے یہ باب باندھ کر انبسط ردائک کے مضمون کی جو اس سے پہلے باب میں ہے وضاحت کر دی ہے اور آنحضرت علیہ کے عمل درآمد سے تیسویں ادب کی طرف توجہ دلائی ہے۔قرآن مجید میں بھی یہی ارشاد ہے: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوالَهُ وَانْصِتُوا (الأعراف: ۲۰۵) یعنی جب قرآن پڑھا جائے تو خاموش ہو کر توجہ سے سنو۔جن لوگوں نے کفر کے لفظ کو ڈراؤنی شئے بنا رکھا ہے وہ ذرا اس وسعت استعمال پر غور کریں قتل وغیرہ سے اگر لوگ کفر کی طرف منسوب کئے جاسکتے ہیں تو کسی نبی موعود کا انکار بدرجہ اولیٰ