صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 198
صحيح البخاري - جلد ا ۱۹۸ ٣- كتاب العلم دعا کی قبولیت اسباب کی مانع نہیں بلکہ خود دعا بھی ایک سبب ہے، جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی مشیت کو تحریک دیتا ہے اور مسبب الاسباب وہ ضروری اسباب پیدا کر دیتا ہے جو پہلے نہیں ہوتے۔دعا کی قبولیت کا یہی اعجاز ہے۔حدیث نمبر ۱۹ ا کے آخر میں ابن ابی فدیک کا جو لفظی اختلاف امام بخاری نے نقل کیا ہے، یہ اس روایت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے جو انہوں نے کتاب المناقب، باب سؤال المشركين أن يريهم النبي اية، روایت نمبر ۳۶۴۸ میں اسی سند سے بیان کی ہے۔ابن ابی قد یک بھی محمد بن ابراہیم بن دینار کی طرح ابن ابی ذئب سے نقل کرتے ہیں اور وہ سعید مقبری سے اور سعید حضرت ابو ہریرہ سے۔اس روایت میں یہ ہے: اِنّى اَسْمَعُ مِنْكَ۔اور اُس میں ہے: إِنِّي سَمِعْتُ مِنكَ۔اس میں ہے: أَنْسَاهُ ہے، اُس میں ہے فَأَنسَاهُ۔اس میں ہے فَبَسَطْتُهُ۔اُس میں ہے: فَبَسَطْتُ۔اس میں ہے: فَغَرَفَ بِيَدَيْهِ، اُس میں ہے : فَعَرَفَ بِيَدِهِ۔اِس میں ہے: فَمَا نَسِيْتُ شَيْئًا۔اُس میں ہے: فَمَا نَسِيْتُ حَدِيثًا۔یہ حدیث بطور ایک مثال کے ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت کے لفظی اختلاف کے ساتھ معنی میں فرق نہیں پڑتا اور اس قسم کا نسیان جو محض لفظی اختلاف کے ساتھ ہو قابل اعتراض نہیں اور نہ اس کے بغیر کوئی چارہ ہے۔حَفِظْتُ مِنْ رَّسُول الله الا الله : روایت ۱۲۰ میں بتلایا کہ حضرت ابو ہریرہ کا دارومدار حافظہ پر تھا اور ان کی تحریری روایات کے متعلق جو بیان کیا جاتا ہے وہ بیچ نہیں۔اس روایت سے روایت نمبر ۱۱۳ کی مزید تائید ہوتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے ۵۳۶۴ روایتیں مروی ہیں۔اس کثرت روایت کی یہی وجہ ہے کہ ان کا کام ہی حدیثیں یاد کرنا تھا۔وعاء ظرف کو کہتے ہیں اور اس سے مراد وہ چیز بھی ہوتی ہے جو ظرف کے اندر رکھی جائے۔ایسا ہی وغی یاد کرنے کو بھی کہتے ہیں اور نفس واعیہ ذہن کی وہ قوت ہے جو احساسات و تصورات کو اپنے اندر سمیٹ کر محفوظ کر لیتی ہے اس لئے اس کا ترجمہ یادداشت کیا گیا ہے۔وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَشَتُه : ایک طرف تو حضرت ابو ہریرہ یہ کہتے ہیں کہ میں حدیثیں اس لئے بیان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ چھپانے والے کو ملعون قرار دیتا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُوْلَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللهُ وَيَلْعَتُهُمُ العِنُونَ۔(البقرہ : ۱۶۰ ) اگر اس آیت کا خیال نہ ہوتا تو میں کبھی بھی حدیثیں بیان نہ کرتا اور ساتھ ہی یہ کہتے ہیں: ایک دوسری قسم کی یادداشت بھی میرے پاس ہے۔اگر اسے ظاہر کروں تو میری گردن کاٹ دی جائے گی۔امام ابن حجر وغیرہ نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ پہلی قسم سے مراد احادیث کی وہ قسم ہے جو احکام شریعت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔دوسری قسم سے مراد وہ ہیں جن کا تعلق خاص افراد کے ساتھ تھا اور جو انذاری پیشگوئی کے رنگ میں تھیں جن کا بیان کرنا فتنہ کا موجب ہوتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ اشارہ و کنایہ سے وہ باتیں بتلا بھی دیا کرتے تھے، جیسا کہ ان کی یہ دعا: (أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ رَّأْسِ السَتِينِ وَأَمَارَةِ الصَّبْيَانِ ( یعنی میں ساٹھویں سال کے آغاز اور چھوکروں کی حکومت سے پناہ مانگتا ہوں۔یعنی یزید بن معاویہ جو ھ میں خلیفہ نامزد کیا گیا تھا اور حضرت ابو ہریرہ کی یہ دعا قبول ہوئی اور وہ اس سے ایک سال پہلے فوت ہوئے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۸۶)