صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 197 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 197

صحيح البخاري - جلد ا ۱۹۷ ٣- كتاب العلم ارشاد کی تعمیل میں میں نے اپنی چادر پھیلا دی۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یقول ایک دوسری روایت میں یوں نقل کیا ہے: لَنْ يُبْسُطُ أَحَدٌ مِنْكُمْ ثَوْبَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي هَذِهِ ثُمَّ يَجْمَعَهُ إِلَى صَدْرِهِ صلى الله فَيَنْسَى مِنْ مَقَالَتِي شَيْئًا أَبَدًا فَبَسَطْتُ نَمِرَةً لَّيْسَ عَلَيَّ ثَوْبٌ غَيْرُهَا حَتَّى قَضَى النَّبِيُّ ﷺ مَقَالَتَهُ ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِى فَوَالَّذِى بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ مِنْ مَّقَالَتِهِ تِلْكَ إِلَى يَوْمِي هَذَا۔(بخاری۔كتاب المزارعة۔باب ماجاء فی الغرس - روایت نمبر ۲۳۵۰) { ترجمہ: تم میں سے جو کوئی بھی اپنے کپڑے کو جب تک میں اپنی بات ختم نہ کر لوں، پھیلائے رکھے گا۔پھر وہ اس کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگالے گا تو وہ میری بات کبھی نہیں بھولے گا۔چنانچہ میں نے اپنی چادر بچھا دی۔اس کے سوا مجھ پر کوئی کپڑا نہ تھا۔جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات ختم کی تو میں نے اس کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگالیا۔اس ذات کی قسم ہے، جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا تھا، میں آپ کی اس گفتگو کو آج تک نہیں بھولا۔} اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے صرف حضرت ابو ہریرہ کو ہی نہیں بلکہ تمام صحابہ کو بالعموم یہ ہدایت دی تھی۔حضرت ابو ہریرہ نے اس پر پورے طور پر عمل کیا اور کان اور سینہ کھول کر آپ کی باتیں سنے اور یاد کرنے کے لئے بیٹھ گئے۔اس لئے ان کو یاد رہیں اور نسیان کی شکایت جاتی رہی۔فَغَرَف بِيَدَيْهِ بھی اسی طرح مجازا استعمال ہوا ہے۔جس طرح ابسُط رِدَائک اور اس کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے فیضان کے چلو بھر بھر کر ڈالتے رہے اور حضرت ابو ہریرہ اس فیضان کو اپنی چادر سینہ میں سمیٹتے رہے۔فَبَسَطْتُ نَمِرَةً : نَمِرَةٌ کے معنی چادر۔یہ اپنی کم مائیگی اور بے بساطی نوشت و خواند کی طرف اشارہ ہے۔نسیان فی ذاتہ کوئی مستقل چیز نہیں جو صفت لازمہ کی طرح ہمیشہ قائم رہے۔بلکہ ایک عارضی حالت کا نام ہے۔نسیان کئی قسم کا ہوتا ہے۔بعض آدمی کان سے سنی ہوئی بات جلدی بھول جاتے ہیں اور آنکھ سے دیکھی ہوئی بات کبھی نہیں بھولتے اور بعض اس کے بالکل بر عکس ہوتے ہیں۔بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو پڑھی ہوئی بات نہیں بھولتے اور بعض وہ ہوتے ہیں کہ جب تک سنی پڑھی بات کے لئے اپنے ذہن میں خود استدلال کر کے کوئی منطق تعلق نہ قائم کر لیں ، انہیں کچھ بھی یاد نہیں رہتا اور بعض توجہ سے پوری بات نہیں سنتے اور اس لئے بھول جاتے ہیں۔غرض بہت سے اسباب ہیں جو نسیان کا موجب ہوتے ہیں اور ان کے ازالہ سے وہ دور ہو جاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کے شوق کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس شکایت پر کہ انہیں نسیان ہے، ان کو دعا کرنے کی ہدایت فرمائی اور خود بھی دعا کی۔جیسا کہ حضرت زید بن ثابت سے مروی ہے۔(مستدرک حاکم، کتاب معرفة الصحابة، باب دعاء أبي هريرة بعلم لا ينسى وتأمين النبی اله ، جلد ۳ صفحہ ۱۲۷) اور یہ دعا ان کے حق میں ایسے معجزانہ طور پر قبول ہوئی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر جیسے جلیل القدر صحابی نے شہادت دی اور امام مالک اور امام شافعی نے بھی یہ رائے قائم کی ہے کہ (احْفَظُ مَنْ رَّوَى الْحَدِيث فِي عصره) حضرت ابو ہریرہ اپنے ہم عصر راویوں میں سب سے زیادہ حدیث کو یادرکھنے والے تھے۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۸۲)