صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 196
صحيح البخاري - جلد ) ۱۹۶ ٣- كتاب العلم حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكَ بِهَذَا أَوْ قَالَ کہ ہم سے ابن ابی فر یک نے یہی حدیث بیان کی۔انہوں نے یا یہ لفظ کہے: آپ نے اپنے ہاتھ سے چلو غَرَفَ بِيَدِهِ فِيْهِ۔بھر کر اس میں ڈال دیا۔اطرافه : ۱۱۸، ۲۰۱۷، ٢٣۵۰، ٣٦٤٨، ٧٣٥٤۔۱۲۰: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ ۱۲۰: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: میرے بھائی حَدَّثَنِي أَخِي عَنِ ابْنِ أَبِي ذِنْبٍ عَنْ نے مجھے بتلایا۔انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نے سعید مقبری سے ، سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے حَفِظْتُ مِنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ علی وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَتَتْتُهُ سے دوطرح کی یاد داشتیں محفوظ رکھی ہیں۔ان میں وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَشَتْتُهُ قُطِعَ هَذَا سے ایک جو ہے اس کو تو میں نے پھیلا دیا ہے اور الْبَلْعُوْمُ { قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَلْعُوْمُ دوسری جو ہے اگر اس کو پھیلاتا تو یہ نرخرا کاٹ دیا مَجْرَى الطَّعَامِ } جاتا۔{ ابو عبد اللہ نے کہا: بَلْعُومُ جہاں سے کھانا گزرتا ہے۔} تشریح: حِفظُ العِلم کا باب باندھ کر حضرت ابو ہریرہ کے حافظہ وغیرہ کے متعلق ان کی اپنی ہی تین روایتیں نقل کی ہیں۔ان سے جہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ اس جگہ حفظ العِلْمِ سے مراد حدیث یا درکھنا ہے۔وہاں اس امر پر بھی روشنی ڈالنا منظور ہے کہ حدیثوں کی روایت میں حضرت ابو ہریرہ کا ایک بڑا حصہ ہے اور یہ کہ ان کے متعلق جو وقتا فوقتا چہ میگوئیاں ہوئی ہیں، ان کی کیا حقیقت ہے؟ حدیث نمبر ۱۱۸ میں بتلایا کہ انہیں کوئی کام کاج نہ تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے کا انہیں بہت موقع ملتا جو دوسرے انصار و مہاجرین کو میسر نہ تھا۔اس لئے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنے اور یاد کرنے کا زیادہ موقع ملا تھا۔حدیث نمبر 119 میں ان کے نسیان کا ذکر کیا اور بتلایا ہے کہ وہ نسیان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کرنے سے دور ہو گیا تھا۔ابُسُطُ رِدَانَكَ : اپنی چادر پھیلاؤ۔یہ ایک محاورہ ہے۔اس سے یہ مراد ہے کہ فارغ البال ہو کر توجہ واطمینان سے سننے کے لئے بیٹھ جاؤ۔اپنے اندر اس سوالی کی سی حالت پیدا کرو، جو لینے کے لئے اپنی چادر پھیلا دیتا ہے۔جب تک طالب علم کی یہ حالت نہ ہوگی وہ کچھ فائدہ نہ اٹھائے گا۔جو سنے گا بھول جائے گا۔استفادہ کے لئے شوق وحرص اور حضورِ قلب ہونا چاہیے۔تحصیل علم کے لئے یہاں بتیسویں ادب کی طرف توجہ دلائی ہے۔فَبَسَطُتُ: چنانچہ آپ کے یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۲۷۵)