صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 195 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 195

صحيح البخاري - جلد ا ۱۹۵ ٣- كتاب العلم (البقرة: ١٦١١٦٠) إِنَّ إِخْوَانَنَا مِنَ پڑھی: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ الْمُهَاجِرِيْنَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ۔۔۔۔وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ تک۔* ہمارے بھائی بِالْأَسْوَاقِ وَإِنَّ إِخْوَانَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ مہاجرین کو تو منڈیوں میں خرید وفروخت مصروف كَانَ يَشْغَلُهُمُ الْعَمَلُ فِي أَمْوَالِهِمْ وَإِنَّ رکھتی اور ہمارے بھائی انصار کو ان کی جائدادوں کے أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَلْزَمُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى متعلق کام کاج مصروف رکھتا تھا اور ابو ہریرہ اپنا پیٹ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِبَع بَطْنِهِ وَيَحْضُرُ مَا بھر کر رسول اللہ ﷺ سے لپٹا رہتا تھا اور وہ ان لَا يَحْضُرُونَ وَيَحْفَظُ مَا لَا يَحْفَظُونَ موقعوں پر حاضر رہتا جہاں وہ حاضر نہ ہوتے اور وہ باتیں یا درکھتا جو وہ یاد نہ رکھتے۔اطرافه ،۱۱۹، ۲۰۱۷، ٢٣۵۰، ٣٦٤٨، ٧٣٥٤۔١١٩: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ 119 ہم سے احمد بن ابی بکر ابو مصعب نے بیان کیا، أَبُو مُصْعَب قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کہا: محمد بن ابراہیم بن دینار نے ہمیں بتلایا۔انہوں إِبْرَاهِيْمَ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِنْبِ نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے سعید مقبری سے، عَنْ سَعِيْدِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔وہ کہتے قَالَ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّي أَسْمَعُ تھے میں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ! میں آپ سے مِنْكَ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنْسَاهُ قَالَ ابْسُطُ بہت باتیں سنتا ہوں۔انہیں بھول جاتا ہوں۔فرمایا: رِدَاءَكَ فَبَسَطْتُهُ قَالَ فَغَرَفَ بِيَدَيْهِ ثُمَّ اپنی چادر پھیلا۔میں نے پھیلا دی۔حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے: آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بھر قَالَ ضُمَّهُ فَضَمَمْتُهُ فَمَا نَسِيْتُ شَيْئًا کر ڈالا۔پھر فرمایا: اس کو اکٹھا کرلو۔میں نے اسے بَعْدَهُ۔اکٹھا کر لیا۔اس کے بعد میں کوئی بات نہ بھولتا تھا۔ترجمہ: یقینا وہ لوگ جو اُسے چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح نشانات اور کامل ہدایت میں سے نازل کیا، اس کے بعد بھی کہ ہم نے کتاب میں اس کو لوگوں کے لیے خوب کھول کر بیان کر دیا تھا۔یہی ہیں وہ جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور اُن پر سب لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔سوائے اُن لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کی اور اللہ کے نشانات کو) کھول کھول کر بیان کیا۔پس یہی وہ لوگ ہیں جن پر میں تو بہ قبول کرتے ہوئے جھکوں گا۔اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہوں۔}