صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 194
صحيح البخاري - جلد ا ۱۹۴ ٣- كتاب العلم یہاں صحابہ مخاطب ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتلا کر کہ موجودہ لوگ ایک سوسال کے اندر یکے بعد دیگرے اس دنیا سے کوچ کر جائیں گے، دنیا کی ناپائیداری کی طرف توجہ دلائی ہے۔صحابہ کے متعلق جس صحت کے ساتھ پیشگوئی پوری ہوئی ہے، اس سے دوسرے لوگوں کے متعلق بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ نے لوگ پیدا نہیں ہوں گے۔بلکہ صرف یہ مطلب ہے کہ جو اس وقت موجود ہیں وہ زندہ نہیں رہیں گے۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر اس رات کی خصوصیت بتلائی۔گو ہم اب اس وقت یہ حقیقت آشکارا نہ کرسکیں مگر یہ ہمارے مشاہدے میں آیا ہے کہ سلسلہ موت اور پیدائش کے ساتھ زمانہ کا بھی ایک گہرا تعلق ہوتا ہے۔ایک خاص موسم میں بلکہ ایک معین رات میں لڑکے یا لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہیں۔واقعات تصدیق کرتے ہیں کہ ایک سو سال تک صحابہ کی صحبت اور ان کے فیض سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔السَّمَرُ فِي العِلمِ حدیث نمبر ۷ جو صیح بخاری میں مفصل آتی ہے اور یہاں ایسی مختصر کہ ابن حجر وغیرہ شارحین کو یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ بظاہر اس کا باب سے کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔سوائے اس کے کہ کلام نَامَ الْغُلَیمُ کو سَمَرُ اللیل پر محمول کیا جائے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ (۲۸) مگر اس کو سمر نہیں کہتے۔میں نے بتلایا ہے کہ امام بخاریؒ بعض وقت کسی حدیث کو اختصار کے ساتھ جو پیش کرتے ہیں تو وہ اپنے کسی خاص مقصد کے ظاہر کرنے کے لئے۔یہاں صرف رات کو اٹھ کر تہجد پڑھنا مقصود بالذات ہے۔اس لئے باقی تفصیل نظر انداز کر دی ہے اور یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ تہجد بھی سمرُ اللَّيْلِ کی ایک قسم ہے، جس میں انسان اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کی باتیں کرتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ، إِنَّ نَاشِتَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطًا وَأَقْوَمُ قِيلًا۔(المزمل: (ترجمہ: رات کا اُٹھنا یقین(نفس کو ) پاؤں تلے کچلنے کے لیے زیادہ شدید اور قول کے لحاظ سے زیادہ مضبوط ہے۔} کو بَابِ ٢ ٤ : حِفْظُ الْعِلْمِ علم کو یا درکھنا ۱۱۸ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ ۱۱۸: ہم سے عبدالعزیز بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مالک نے مجھے بتلایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ ابن شہاب نے اعرج سے، اعرج نے حضرت النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَوْ لَا ابو ہریرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: لوگ کہتے آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللهِ مَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا ہیں کہ ابو ہریرہ بہت حدیثیں بیان کرتا ہے۔اگر ثُمَّ يَتْلُو إِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا كتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں ایک بھی مِنَ الْبَيِّنَاتِ إِلَى قَوْلِهِ الرَّحِيمُ حدیث بیان نہ کرتا۔یہ کہہ کر انہوں نے یہ آیت