صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 193
صحيح البخاري - جلد ا الْأَرْضِ أَحَدٌ۔اطرافه: ٥٦٤، ٦٠١۔۱۹۳ ٣- كتاب العلم لوگ بھی سطح زمین پر موجود ہیں ، ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔:۱۱۷: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۷ا: ہم سے آدم نے بیان کیا۔کہا: شعبہ نے ہم شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ قَالَ سَمِعْتُ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا حکم نے ہمیں بتلایا۔کہا: سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُ میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔وہ کہتے تھے : میں اپنی فِي بَيْتِ حَالَتِي مَيْمُوْنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ خاله حضرت میمونہ بنت حارث کے گھر سو یا جو کہ نبی سویا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ﷺ کی بیوی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باری کی رات اُن کے ہاں تھے۔نبی ﷺ نے عشاء عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى کی نماز پڑھی۔پھر اپنے گھر آئے اور چار رکعتیں نماز اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَ إِلَى پڑھی۔پھر سو گئے۔اس کے بعد اُٹھے اور فرمایا: یہ نتھا سو گیا ہے۔یا کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا جو اس سے ملتا جلتا مَنْزِلِهِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ تھا۔اس کے بعد آپ ( نماز کے لیے ) کھڑے ہو قَامَ ثُمَّ قَالَ نَامَ الْعُلَيْمُ أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا گئے اور میں بھی آپ کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔آپ ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ نے مجھے اپنے دائیں طرف کر دیا اور پانچ رکعتیں نماز يَّمِيْنِهِ فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّی پڑھی۔پھر دور کعتیں نماز پڑھی۔اس کے بعد آپ سو رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيْطَهُ گئے۔یہاں تک کہ میں نے آپ کے خرانٹے سنے۔غَطِيطَهُ (کہا) يَا خَطِيطَهُ ( یعنی خرانٹے کی آواز ) پھر أَوْ خَطِيْطَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ۔آپ نماز کے لیے باہر گئے۔اطرافه ۱۳۸، ۱۸۳ ، ۶۹۷، ۶۹۸، ۶۹۹ ،۷۲۶، ۷۲۸، ۸۵۹، ۱۱۹۸، ٤٥٦٩، ٦، ٦٢١٦، ٠٧٤٥٢۲۱٥، ٥۹۱۹ ،٤٥٧٠، ٤٥٧٢،٤٥٧١ تشریح فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ سَنَةٍ مِّنْهَالَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ: حدیث نمبر ۱۱۶ میں ایک پیشگوئی کا ذکر ہے جو علم غیب پر مبنی ہے اور وہ نہایت صحت کے ساتھ پوری ہوئی۔ایک سوسال کے اختتام پر آخری صحابی حضرت ابوالطفيل عامر بن واثلہ فوت ہوئے یعنی ملالہ میں۔آپ نے یہ پیشگوئی اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے کی ، جیسا کہ حضرت جابڑ کی روایت میں اس کی صراحت ہے (دیکھئے فتح الباری جزء دوم صفحہ ۹۹ - کتاب مواقیت الصلوۃ باب ۴۰، تشریح روایت نمبر ۶۰۱)