صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 192 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 192

صحيح البخاری جلد ا ۱۹۲ ٣- كتاب العلم واقعات کے تذکرہ کے لئے موزوں وقت رات کا ہے۔ اس وقت کی نصیحت بھی دل میں گھر کرنے والی ہوتی ہے۔ اَيْقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الْحُجَرِ : حدیث نمبر ۱۵ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرہ انقظوا صَوَاحِبَاتِ الْحُجَرِ فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ۔ جو اس جگہ نقل کیا گیا ہے وہ محض اسی تاثیر کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہے۔ ورنہ ترجمہ باب سے زیادہ مطابقت کھانے والی روایت کتابُ التَّفْسِيرِ، بَابِ قَوْلُهُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ والی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : فَتَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ ( روایت نمبر ۴۵۶۹)- صَوَاحِبَاتِ الْحُجَرِ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔ یہ فقرہ گوناگوں تاثرات کا مخزن ہے اور حسرت و افسوس اور غم و اضطراب کے جذبات ایسے کوٹ کوٹ کر اس کے اندر بھر دیئے گئے ہیں کہ دل کو ٹھیس لگائے بغیر نہیں رہتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل بیت کی روحانی ترقی کے لئے بھی اسی طرح مضطرب و غمگین ہیں؛ جیسے تمام دوسرے لوگوں کے لئے ۔ ان پیرزادوں اور سجادہ نشینوں وغیرہ کے لئے اس میں ایک سبق ہے جن کے گھر ظلمت کدہ ہیں اور ان میں دینداری کیا بلکہ وہ تو دنیا کی ہوں کے تہ خانے بنے ہوئے ہے نیک اعمال ہی ہیں جو آخرت میں انسان کا ننگ ڈھانپنے والے ہیں ۔ کوئی ظاہری نسبت و تعلق یا واسطہ عمل کا قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ فَرُبَّ كَاسِيَةٍ كا فقره أُوتِيتُ جَوَامَعَ الكَلِم کی ایک تیسری مثال ہے۔ بَاب ٤١ : السَّمَرُ فِي الْعِلْمِ رات کو علم کی باتیں کرنا ہوئے ہیں۔ ١١٦ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ ۱۱۶: ہم سے سعید بن غفیر نے بیان کیا۔ کہا لیث حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ خالد نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، سَالِمٍ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي ابن شہاب نے سالم سے۔ نیز ابوبکر بن سلیمان بن حَثْمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ صَلَّى ابی حشمہ سے روایت کی کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے : نبی بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری زندگی میں ہمیں فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ عشاء کی نماز پڑھائی۔ جب آپ سلام پھیر چکے أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: تمہیں اپنی اس رات کا سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ کچھ پتہ بھی ہے؟ اس سے سو برس کے آخر تک جو