صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 191
صحيح البخاری جلد ا ٣- كتاب العلم امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں تیسواں ادب حفاظت علم کے متعلق سکھلایا اور حفاظت حدیث کے تاریخی اسباب پر روشنی ڈالی ہے۔خَرَجَ ابْنُ عَبَّاس يَقُولُ : یہ مراد نہیں کہ یہ الفاظ حضرت ابن عباس نے (وہاں سے ) نکلتے وقت کہے تھے، بلکہ یہ واقعہ بیان کرتے وقت کہا کرتے تھے۔جیسا کہ دوسری روایتوں میں یہ الفاظ ہیں : فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ۔۔۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۷۶-۲۷۷) بَاب ٤٠ : الْعِلْمُ وَالْعِظَةُ بِاللَّيْلِ رات کو علم اور نصیحت کی باتیں کرنا ١١٥: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ ۱۱۵: ہم سے صدقہ نے بیان کیا۔(انہوں نے کہا : ) عُيَيْنَةَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ هِنْدِ ابن عیینہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے معمر سے، معمر عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَعَمْرُو وَيَحْيَى بْنُ نے زہری سے، زُہری نے ہند سے، ہند نے سَعِيدٍ عَنِ الزُّهْرِي عَنْ هِنْدِ عَنْ أُمّ حضرت ام سلمہ سے روایت کی۔نیز عمرو اور بکی بن داور سَلَمَةَ قَالَتِ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ سعید نے زہری سے روایت کی۔انہوں نے ہند سے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ سُبْحَانَ ہند نے حضرت ام سلمہ سے۔وہ کہتی تھیں: نبی ہے اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ وَمَاذَا ایک رات جاگے اور فرمایا: سبحان اللہ ! آج رات کیا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ أَيْقِظُوا صَوَاحِبَاتِ کیا فتنے اُتارے گئے اور کیا کیا خزانے کھولے گئے الْحُجَرِ فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ ہیں۔کوٹھڑیوں والیوں کو جگاؤ۔دنیا میں کتنی ہی فِي الْآخِرَةِ۔پوشاک پہنے ہیں جو آخرت میں لگی ہوں گی۔اطرافة ،۱۱۲٦ ،٣٥۹۹، ٥٨٤٤، ٦٢١٨ ٧٠٦٩ تشریح : الْعِلْمُ وَالْعِظَةُ بِاللَّيْلِ : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے دوباب یکے بعد دیگرے باندھے ہیں جن کا تعلق رات کے وقت علمی ذکر واذکار اور نصیحت کے ساتھ ہے۔وہ یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ رات کا وقت ایک ایسا وقت ہے۔جب لوگ دنیا کے دھندوں سے فارغ ہو کر یک سو ہو جاتے ہیں اور وہ رات کو طبعا باتیں سنے سنانے کا شوق رکھتے ہیں۔یہ وقت احادیث نبویہ اور آثار صحابہ کی باتیں اور نصیحت آمیز واقعات بیان کرنے کے لئے نہایت موزوں ہے۔کیونکہ ذہن جو اثر اس وقت باتوں باتوں میں سہولت سے قبول کر لیتا ہے۔وہ عالم خواب کی مخفی د مخفی تا شیروں کے ماتحت مستحکم ہو جاتا ہے۔یہاں حصول علم کے ضمن میں اکتیسواں ادب سکھلایا ہے۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اب عام علم کے مضمون کو چھوڑ کر خصوصیت سے علم حدیث کو لے رہے ہیں اور بتلارہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے