صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 190
صحيح البخاري - جلد ا 19+ ٣- كتاب العلم صا الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الْوَجَعُ ایسی تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم بھولو نہیں۔حضرت وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللهِ حَسْبُنَا فَاخْتَلَفُوا عمر نے کہا: نبی ﷺ پر بیماری نے غلبہ کیا ہے۔اور وَكَثُرَ اللَّغَطُ قَالَ قُوْمُوْا عَنِّي وَلَا يَنْبَغِي ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے جو ہمارے لیے کافی ہے۔اس پر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور شور عِنْدِي التَّنَازُعُ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسِ بہت ہو گیا۔آپ نے فرمایا: اٹھو میرے پاس سے يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ چلے جاؤ۔میرے پاس جھگڑنا نہیں چاہیے۔اس پر بَيْنَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عباس باہر چلے گئے۔وہ کہا کرتے تھے: بڑا نقصان سارے کا سارا یہی ہے کہ رسول اللہ وَبَيْنَ كِتَابِهِ۔ص اللہ کو لکھنے سے روک دیا۔اطرافه ۳۰۳۵، ٣١٦٨، ٤٤٣٢،٤٤٣١، ٥٦٦٩، ٧٣٦٦۔تشریح: لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ : آپ نے روایت نمبر ۱۴ لاکر یہ امر واضح کر دیا ہے کہ آخری وقت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی فکر رہی : لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ کہ کہیں تم بھول نہ جاؤ تحریر لکھ دوں۔ضَلال کے معنی بھولنا، بھول کر راہ سے بے راہ ہو جانا۔(لسان العرب تحت لفظ ضلل) إِنتُونِي بِكِتَابِ : کتاب سے مراد کوئی لکھنے کی چیز۔غَلَبَهُ الْوَجَعُ: یعنی آپ کو بیماری نے نڈھال کر دیا ہے۔کہیں تکلیف بڑھ نہ جائے اور آپ کے فوت ہو جانے کا تو و ہم بھی حضرت عمرؓ کو نہیں تھا۔عِندَنَا كِتَابُ اللهِ حَسْبُنَا حضرت عمر نے یہ اس لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْى (الأنعام: ٣٩) تِبْيَانًا لِكُلّ شَيئ (النحل:۹۰) یعنی یہ کتاب ہر بات کو واضح کر کے بیان کرتی ہے۔ہم نے اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔لَا يَنبَغِي عِنْدِي السَّنَازُعُ : یعنی بعض لوگ جن کے جذبات حضرت عمر کی طرح رقیق تھے۔انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں تکلیف نہیں دینی چاہیے اور بعض نے کہا کہ حکم کی تعمیل کرنی چاہیے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چلے جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میرے پاس شور نہ کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کتاب اللہ کی عزت کا اس حالت بے قراری میں بھی اس قدر پاس تھا کہ حضرت عمرؓ کی بات سننے کے بعد کاغذ، فلم ، دوات منگوانے کا اعادہ نہیں فرمایا۔جیسا کہ بخاری کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوگا کہ آپ اس واقعہ کے بعد بھی چند روز زندہ رہے اور اس دن کچھ اور وصیتیں بھی کیں ہیں۔مگر اس خیال کا اعادہ نہیں فرمایا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن احکام کے لکھوانے کی ضرورت سمجھی تھی وہ کتاب اللہ میں موجود تھے گویا کہ قرآن مجید سے چھٹے رہنے کی تاکید فرمانا چاہتے تھے اور آپ نے حضرت عمر کی تائید کی اور خاموش ہور ہے۔یہ وہ ادب ہے جس کی پروا نام نہاد علماء کونہیں ہوتی۔ایک رائے کا جو اظہار کر بیٹھیں تو پھر وہ اسے وحی الہی کی طرح سمجھتے ہیں۔ہمیں اس پاکیزہ نمونہ کو بھی بھولنا نہیں چاہیے۔کتاب اللہ کے سامنے سب دوسری باتیں کالعدم ہیں۔