صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 189
صحيح البخاری جلد 1 ۱۸۹ ٣- كتاب العلم لے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے نوشتے مجھے دکھلائے ۔ ابن عبدالبر کے نزدیک ہمام بن منبہ کی یہ روایت زیادہ صحیح ہے اور امام ابن حجر کہتے ہیں کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ نوشتے خود ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے تھے کیونکہ یہ ثابت شدہ بات ہے کہ وہ لکھنا نہیں جانتے تھے ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحه ۲۷۴) صحة تَابَعَهُ مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : امام بخاری رحمۃ اللہ علی کا یہ اشارہ بلاضرورت نہیں بلکہ اپنے اندر ایک اہم بات رکھتا ہے جس کا احادیث کی لفظی صحت وضبط کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ جس متابعت کا انہوں نے یہاں ذکر کیا ہے وہ عبدالرزاق، نیز ابوبکر بن علی مروزی نے کتاب العلم میں نقل کی ہے۔ ایسا ہی احمد بن حنبل اور بیہقی نے بھی اسے بیان کیا ہے۔ مجاہد اور مغیرہ بن حکیم دونوں نے کہا: سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ الله مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بَيَدِهِ وَيَعِي بَقَلْبِهِ وَكُنتُ اعِي وَلَا اكْتُبُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللهِ الله فِي الْكِتَابِ عَنْهُ فَاذِنَ لَهُ۔ ** اس کی سند عمدہ ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۷۴) ☆ خلاصہ ان تمام روایتوں کا یہ ہے کہ بلحاظ صحت الفاظ حضرت ابو ہریرہ بوجہ لکھنا نہ جاننے کے اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کو نسیان کی جو شکایت تھی، اگر چہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے دور ہو گئی اور وہ کہتے ہیں: فَمَا نَسِيْتُ شَيْئًا بَعْدُهُ ( حدیث نمبر (۱۱۹) کہ اس کے بعد میں نہیں بھولا ۔ مگر یہ تمیز کرنا کہ پہلے کی حدیثیں کون سی ہیں اور بعد کی کونسی بہت مشکل امر ہے۔ غرض امام بخاری یہاں حفاظت علم کے لئے تحریر کی ضرورت واضح کرنا چاہتے ہیں۔ ١١٤: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ۱۱۴ ہم سے یحی بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: ابن قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي وہب نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: یونس نے يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مجھے بتلایا کہ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا اشْتَدَّ نے عبید اللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابن بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ عباس سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے : جب نبی ہے قَالَ ائْتُونِي بِكِتَابِ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا پر آپ کی بیماری نے سخت حملہ کیا تو آپ نے فرمایا: لَّا تَضِلُّوْا بَعْدَهُ قَالَ عُمَرُ إِنَّ النَّبِيَّ میرے پاس کوئی لکھنے کا سامان لاؤ۔ تا میں تمہیں ایک ترجمہ: ہم نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔ وہ بیان کرتے تھے کہ (صحابہ میں سے ) کوئی بھی ایسا نہیں جو مجھ سے صلى الله زیادہ رسول الله علی حمد ﷺ کی حدیثیں جانتاج لی حدیثیں جانتا ہو۔ سوائے ان حد ۔ ن حدیثوں کے جو حضرت عبداللہ بن عمرہؓ سے مروی ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے تھے اور سینہ میں محفوظ بھی کر لیتے تھے۔ اور میں صرف سینہ میں محفوظ کرتا تھا ، لکھتا نہیں تھا۔ انہوں نے رسول الله عليه سے لکھنے کی اجازت چاہی تھی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی تھی۔} له صلى الله