صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 188
صحيح البخاري - جلد ا ۱۸۸ ٣- كتاب العلم اُبھارا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بیت اللہ کے متعلق اس قدر غیرت ہے کہ اس نے بیت اللہ کی خاطر اہل مکہ کی باوجود ان کے مشرک ہونے کے نصرت کی تھی اور ان کے خون بچا لئے تھے۔تم مسلمان ہو تمہیں اس کی حرمت کا پاس زیادہ ہونا چاہیے۔فَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ اَهْلِ الْيَمَنِ : یہ حضرت ابو شاہ تھے۔قَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ : یہ حضرت عباس تھے۔۱۱۳ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ :۱۱۳ ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو قَالَ سفیان نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عمرو نے أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهِ عَنْ أَخِيْهِ قَالَ ہمیں بتلایا۔کہا: وہب بن منبہ نے مجھے بتلایا۔انہوں نے اپنے بھائی سے روایت کی کہ انہوں نے سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا مِنْ کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا وہ کہتے تھے : أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في ﷺ کے صحابہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کے أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ پاس مجھ سے زیادہ حدیثیں ہوں جو آپ سے مروی مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ ہوں ، سوائے ان حدیثوں کے جو حضرت عبداللہ بن عمر و روایت کیا کرتے تھے۔(یعنی وہ زیادہ ہیں) وَلَا أَكْتُبُ تَابَعَهُ مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔وہب کی طرح معمر نے بھی یہی بیان کیا۔معمر نے ہمام سے، أَبِي هُرَيْرَةَ۔ہمام نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔حدیث نمبر ۱۱۳ لا کر یہ بتلایا ہے کہ سابقہ واقعہ تر مریشواز میں سے نہ سمجھا جائے بلکہ صحابہ ایسے بھی تھے جو تشریح : اختر علی الاعلی الم کیا حضرت بن روان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کولکھ لیا کرتے تھے۔جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص۔إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: یہاں شارحین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو کے الفاظ سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ ان کی حدیثیں حضرت ابو ہریرہ کی حدیثوں سے زیادہ تھیں، جو واقعہ کے خلاف ہے۔اس لئے انہوں نے ابا کو منقطع قرار دیا اور یہ مراد لی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ جہاں یہ فخر کرتے ہیں کہ صحابہ میں ان سے بڑھ کر کسی کے پاس حدیثیں نہیں۔وہاں وہ اپنے نقص کا اظہار بھی کرتے ہیں اور وہ یہ کہ وہ لکھنا نہیں جانتے تھے اور حضرت عبد اللہ بن عمرو کو اس وجہ سے اپنے اوپر فوقیت دیتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرو سے جو روایتیں کم بیان کی جاتی ہیں، امام ابن حجر نے اس کی دوہ جہیں بیان کی ہیں۔ایک یہ کہ وہ فتوحات کے بعد مصر میں چلے گئے تھے اور ان کو روایت کرنے کا زیادہ موقع نہیں ملا اور حضرت ابو ہریرہ مدینہ میں اس کام کے لئے وقف ہو چکے تھے اور ابن وہب نے حسن بن عمرو بن امیہ کا یہ قول جو نقل کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کے پاس کوئی بات جو ہوئی تو وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے گھر