صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 187
صحيح البخاری جلد ا 1AZ ٣- كتاب العلم أل عَلَيْهِمْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کو اس پر مسلط کر دیا۔مگر خبر دار یہ ( بستی ) مجھ سے وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِيْنَ أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں ہوئی اور نہ میرے بعد لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي أَلَا کسی کے لیے حلال ہے خیال رکھنا کہ وہ میری خاطر دن کی ایک گھڑی بھر کے لیے ہی حلال ہوئی تھی۔وَإِنَّهَا حَلَّتْ لِي سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ یا درکھو کہ وہ اب اس وقت حرام ہے۔اس کے کانٹے وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لَّا يُخْتَلَى نہ توڑے جائیں اور اس کے درخت نہ کاٹے جائیں شَوْكُهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ اور اس کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے مگر گمشدہ چیز سَاقِطَتُهَا إِنَّا لِمُنْشِدٍ فَمَنْ قُتِلَ فَهُوَ کے متعلق اعلان کرنے والے کو اجازت ہے۔اور جو بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُعْقَلَ وَإِمَّا أَنْ شخص مارا جائے تو اس کے لیے دو باتوں میں سے جو يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيْل فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْل بات بہتر ہو، وہ اختیار کی جائے۔یا تو اس کی دیت الْيَمَنِ فَقَالَ اكْتَبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دلائی جائے یا قاتل کو قصاص کے لیے مقتول کے وارثوں کے سپرد کر دیا جائے۔اتنے میں اہل یمن فَقَالَ اكْتُبُوْا لِأَبِي فُلَانٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ سے ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ مجھے لکھ قُرَيْشٍ إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ فَإِنَّا ہیں۔فرمایا: فلاں کے باپ کو لکھ دو۔قریش میں سے نَجْعَلُهُ فِي بُيُؤْتِنَا وَقُبُوْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! سوائے اذخر ( گھاس) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ قَالَ کے۔کیونکہ ہم اپنے گھروں پر اور اپنی قبروں میں أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ يُقَادُ بِالْقَافِ فَقِيْلَ اسے ڈالتے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا: سوائے اذخر لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَيَّ شَيْءٍ كَتَبَ لَهُ قَالَ کے بھی۔ابو عبداللہ (بخاری) نے کہا: يُقَادُ قاف کے ساتھ بولتے ہیں۔ابو عبد اللہ سے پوچھا گیا: آپ كَتَبَ لَهُ هَذِهِ الْخُطْبَةَ۔اطرافه: ٢٤٣٤، ٦٨٨٠۔تشریح: نے اس کو کیا بات لکھ کر دی؟ کہا: یہی خطبہ لکھ کر دیا۔إِنَّ اللهَ حَبَسَ عَنْ مَّكَّةَ الْقَتْلَ اَوِ الْفِيْلَ : بی شک ابونعیم راوی کو ہے۔اس سے راویوں کی حد درجہ احتیاط کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے روایت میں یقینی اور شکی باتوں میں پورا پورا امتیاز رکھا ہے۔محمد بن سیرین کے قول کا حوالہ دے کر بتلایا کہ بہتر یہی ہے کہ یہ روایت اس شک کے ساتھ ہی نقل کی جائے کیونکہ دونوں لفظوں سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد واضح ہے کہ آپ اس مشہور و معروف واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں اہل حبشہ مکہ پر ہاتھیوں کے ساتھ حملہ آور ہوئے تھے۔آنحضرت ﷺ نے اس واقعہ کی طرف توجہ دلا کر صحابہ کے جذبات کو