صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 186
صحيح البخاری جلد ا ۱۸۶ ٣- كتاب العلم تشریح هَلْ عِنْدَكُمْ كِتَابٌ : عِندَكُم سے مراد صحابہ ہیں نہ کہ اہل بیت۔ابو جحیفہ جنہوں نے حضرت علی سے پوچھا ہے، ان کا نام وہب بن عبد اللہ سوائی ہے اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بچے تھے، حضرت علی ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے ، ان کو کوفہ میں بیت المال کا محافظ مقرر کیا تھا اور یہ ان کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک ہوئے۔حدیث نمبر ۱۱۲ لا کر یہ بتلایا ہے کہ یہ احکام دیت وغیرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کی موجودگی میں لکھے گئے تھے۔اَوْفَهُمْ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ: شارحین نے یہاں حضرت علی کے قول سے ضمنا یہ استدلال کیا ہے کہ قرآن مجید سے سوائے مفسرین کے اور مسلمان بھی استنباط کر سکتے ہیں اور شیعہ کا بھی اس میں رڈ ہے جو باطنی علم کو صرف حضرت علیؓ کے لئے مخصوص کرتے ہیں۔کیونکہ حضرت علیؓ کے الفاظ عام ہیں۔اَوْفَهُمْ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ۔(فتح الباری جزء اول صفحه ۲۷) (عمدۃ القاری جزء دوم صفحہ ۱۶) (ارشاد الساری جزء اول صفحه ۲۰۴) وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ : روایت ! میں حضرت علی کی شہادت پیش کی ہے کہ دیت اور قیدیوں کے متعلق ان کے پاس احکام لکھے ہوئے موجود تھے اور اس ورق میں منجملہ دیگر احکام کے جن کا ذکر دوسری حدیثوں میں آیا ہے، یہ حکم بھی تھا: وَلَا يُقْتَلُ مُسلِم بِكَافِرٍ۔یہ کم اس مسلمان کے متعلق ہے جوجنگی حالت میں کا فر کو مارڈالے۔ورنہ حالت مصلح میں ایسا نہیں۔چنانچہ امام ابوحنیفہ نے بھی اس مسلمان کی سزا جس نے کسی ذمی کافر کو مار ڈالا ہو قتل یادیت جیسا بھی وارث چاہیں قرار دی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایسے مسلمان کو قتل کیا اور فرمایا: أَنَا أَوْفَى مَنْ وَّفَى بِذِمَّتِه۔(المراسيل لابی داؤد۔باب الديات في المسلم يقاد بالكافر إذا قتله۔روایت نمبر ۲۵۰) مزید بحث آگے آئے گی۔۱۱۲ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمِ الْفَضْلُ بْنُ ۱۱۲: ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا: دُكَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى شیبان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے تیجی سے بچی نے ابو سلمہ سے ، ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ کی کہ خزاعہ قبیلے نے بنولیٹ قبیلے کے ایک آدمی کو فتح خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلاً مِّنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ مکہ کے سال اپنے ایک مقتول کے بدلے میں جس کو فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيْلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ فَأُخْبِرَ بنولیت نے قتل کیا تھا، قتل کر دیا۔نبی ﷺ کو اس بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے متعلق اطلاع دی گئی تو آپ اپنی سواری پر سوار فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ ہوئے اور لوگوں سے مخاطب ہو کر آپ نے فرمایا: اللہ نے مکہ سے خون ریزی کو یا ( فرمایا ) ہاتھیوں کو روک حَبَسَ عَنْ مَّكَّةَ الْقَتْلَ أَوِ الْفِيْلَ { قَالَ دیا تھا۔{ محمد بن سیرین ) نے کہا: اس لفظ کو شک مُحَمَّدٌ وَّاجْعَلُوهُ عَلَى الشَّقِ } وَسَلَّطَ کے ساتھ ہی رکھو۔اور رسول اللہ ﷺ اور مومنوں یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۲۷)