صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 185 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 185

صحيح البخاری جلد ) ۱۸۵ ٣- كتاب العلم تھے اور اس لئے بہت روایتیں کرنے سے بچتے تھے۔ حدیث نمبر ۱۱۰،۱۰۹ لاکر بتلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ تاکید کسی ایک وقت میں نہیں بلکہ مختلف اوقات میں ہوتی رہی ہے۔ حضرت سلمہ بن عمرو بن اکوع ان صحابہ میں سے ہیں جو بیعت رضوان میں شریک تھے اور حضرت ابو ہریرہ فتح خیبر کے زمانے سے کچھ پہلے آئے تھے اور ہر ایک اپنا سماع بتلاتا ہے اور یہ لفظی اختلاف بتلاتا بتلاتا ہے کہ مختلف اوقات میں آپ نے یہ تاکید فرمائی ہے۔ بَاب ۳۹ : كِتَابَةُ الْعِلْمِ علمی باتوں کا لکھنا تشریح : كِتَابَةُ العِلْمِ امام بخاری نے جاں سے من: كِتَابَةُ الْعِلْمِ : امام بخاری نے جہاں حفاظت علم کے ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اپنے شدید انذار کو احادیث کے پوری صحت کے ساتھ محفوظ رہنے کا سبب قرار دیا ہے وہاں تحریری ضبط کو بھی ایک سبب بتایا ہے۔ انہوں نے اس کے متعلق چار حدیثیں بیان کی ہیں۔ جن سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ میں تحریر کا رواج تھا اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی ضرورت سمجھتے تھے۔ مختلف قوموں پر ایک تاریخی زمانہ ایسا بھی آیا ہے جس میں وہ حافظہ سے کلی طور پر کام لیتی تھیں اور تحریر کو ایک نقص خیال کر کے اسے معیوب سمجھتی تھیں۔ عرب لوگ اس امر میں حد درجہ متعصب تھے اور بوجہ اس جہالت کے ان کا نام اُتي تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس جہالت کی بھی اصلاح فرمائی اور مسلمانوں کو تحریر کی طرف شوق دلایا۔ قیدیوں میں اگر کوئی لکھا پڑھا قیدی آجاتا تو اس کی آزادی کا فدیہ یہ قرار دیتے کہ وہ لوگوں کو لکھنا سکھائے۔ می ۱۱۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ قَالَ 111: ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا: وکیع نے أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُطَرِّفِ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے سفیان سے، سفیان نے عَنِ الشَّعْبِي عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ قُلْتُ مُطَرف سے، مُطرف نے شعبی سے، شعمی نے ابو جحیفہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے لِعَلِي هَلْ عِنْدَكُمْ كِتَابٌ قَالَ لَا إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ أَوْ فَهُمْ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ حضرت علی سے پوچھا کہ آپ کے پاس کوئی کتاب ہے؟ انہوں نے جواب دیا: کوئی نہیں مگر اللہ کی کتاب أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ قُلْتُ فَمَا یا وہ سمجھ ہے جو ایک مسلمان آدمی کو دی گئی ہے یا جو فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ وَفَكَاكَ اس ورق میں ہے۔ ابو حیفہ کہتے تھے میں نے کہا: اس الْأَسِيْرِ وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ۔ ورق میں کیا ہے؟ فرمایا: دیت دینا اور قیدی کو چھڑوانا اور (یہ کہ ) مسلمان کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جاوے۔ اطرافه ۱۸۷۰ ، ۳۰۷۷ ، ۳۱۷۲، ۱۷۹، 6755، 6903، 6915، 7300۔