صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 184
صحيح البخاري - جلد ا ۱۸۴ ٣- كتاب العلم لَا يَتَمَثَلُ فِي صُوْرَتِي وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ میری صورت نہیں بن سکتا اور جو مجھ پر جان بوجھ کر مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔جھوٹ باندھے وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنالے۔اطرافه ،۳۵۳۹، ۶۱۸۸، ٦١٩۷، ٦٩٩٣۔تشریح: اِثْمُ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ الا الله : اس باب میں امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ پانچ حدیثیں ایک ہی بات واضح کرنے کے لئے لائے ہیں اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یا آپ کی طرف سے جھوٹی بات بیان کرنا گناہ عظیم ہے۔لوگ اپنے بزرگوں کی بڑائی ثابت کرنے کے لئے عجیب سے عجیب معجزے تراشتے اور ان کی طرف انہونی باتوں کو منسوب کرتے ہیں۔کوئی قوم اس گندے جھوٹ سے نہیں بچی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو نہایت منذ رالفاظ میں اس سے آگاہ کیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اس قدر احتیاط برتی کہ وہ سچی بات بیان کرنے سے بھی ڈرتے تھے۔مبادا کہیں اپنی طرف سے روایت میں کمی بیشی ہو جائے اور وہ اس وعید کے مستحق ہوں۔یہ تقویٰ کا اعلیٰ نمونہ ہے۔آپ کے فیوض سے اُن تربیت یافتہ روحوں کا جن کی سچائی کے طفیل احادیث کی نعمت ہم تک پہنچی ہے۔مگر ان کے مقابل فیح اعوج کے زمانہ کے راویوں اور قصہ گوؤں کو دیکھو کہ وہ باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید انذار کے ہوتے ہوئے جھوٹ کی اس لعنت کے مورد بننے میں دوسری قوموں سے پیچھے نہیں رہے۔دوسری قوموں کو تو ضرورت تھی کہ وہ اپنے تخیلات کی مدد سے اپنے بڑوں کی بڑائی کا اظہار کریں اور قصے کہانیوں کی رنگ آمیزیوں سے ان کو سجائیں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات اس خیالی بناؤ سنگار سے بالکل مستغنی تھی۔ان احادیث میں جو کہ حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں، غور کرنے والوں کے لئے ایک نشان ہے۔ان سے سچائی سے بھری ہوئی اس روح القدس کا پتہ چلتا ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں بسیرا کیا ہوا تھا۔عموما گدی نشین، پنڈت، سادھو اور اس قماش کے دوسرے اشخاص اپنی جھوٹی مدح سرائیوں پر جھومتے ہیں۔ان کے دل تو ان مدح سرائیوں کو غلط سمجھتے ہیں۔مگر وہ اپنے چہروں سے اپنے آپ کو ان تعریفوں کا مصداق ظاہر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تالوگوں میں ان کی ساکھ بنی رہے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک نمونہ دیکھو کہ وہ دلی نفرت سے ان لوگوں کو جو آپ کے متعلق افتراء سے کام لینے والے ہوں یہ بددعا دیتے ہیں کہ وہ جہنم میں جھونکے جائیں۔یہ وہ انذار شدید ہے جو احادیث کا محافظ رہا اور جس نے علم کی وراثت کے پہنچانے میں مسلمانوں کو خیانت سے بچائے رکھا۔سوائے ان مجلسی قصہ گوؤں کے جو آج کل بھی مصر، حجاز ، شام، عراق میں بہت ہیں اور جن کو دیکھ کر ابن بابویہ وغیرہ راویوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ واضح ہے۔ان احادیث میں علم کے متعلق انتیسواں ادب بتلایا گیا ہے۔حدیث نمبر ۱۰۶ میں آپ کے متعلق جھوٹی بات بیان کرنے کا ذکر ہے۔روایت نمبر ۱۰۷ میں آپ سے جھوٹی روایت کرنا مراد ہے۔اس روایت میں حضرت عبداللہ بن زبیر کا قول کہ إِنِّي لَمْ أَفَارِقُهُ یعنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوا۔اس سے اکثر اوقات آپ کے ساتھ رہنا مراد ہے۔حدیث نمبر ۱۰۸ لاکر یہ بات واضح کر دی ہے کہ بھول کر یا بغیر قصد کے کوئی خلاف واقعہ بات بیان ہو جانا مراد نہیں۔گو صحابہ اس کا بھی خیال رکھتے