صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 181 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 181

صحيح البخاری جلد ) ۱۸۱ ٣- كتاب العلم صلى الله ١٠٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ ۱۰۵ ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ کہا: حماد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ایوب سے، عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي ایوب نے محمد بن سیرین ) سے محمد نے ابوبکرہ کے بَكْرَةَ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہی سے، انہوں نے (اپنے باپ ) ابو بکرہ سے قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ روایت کی کہ انہوں نے نبی ﷺ کا ذکر کیا کہ آر علی آپ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ نے فرمایا: (دیکھنا تمہارے خون اور تمہارے مال۔ محمد بن سیرین ) کہتے تھے کہ میرا خیال ہے کہ ابو بکرہ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي نے یہ بھی کہا اور تمہاری آبروئیں تمہارے لئے ایسی شَهْرِكُمْ هَذَا أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ ہی معزز ہیں جیسے اس مہینے میں تمہارا یہ دن معزز الْغَائِبَ وَكَانَ مُحَمَّدٌ يَقُوْلُ صَدَقَ ہے۔ سوچاہیے کہ جو تم میں سے حاضر ہے وہ غیر حاضر رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ کو پہنچا دے اور محمد بن سیرین ) کہتے تھے : رسول اللہ ذَلِكَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَيْنِ۔ صلى الله عروسه نے سچ فرمایا۔ یہ ہو چکا۔ آپ نے دو دفعہ فرمایا: کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟ اطرافه: ٦٧، ۱۷٤١ ، ۳۱۹۷ ، ٤٤۰۷، ٤٦٦٢، ٥٥٥٠، ٧٠٧٨، ٧٤٤٧۔ تشريح : لِيُبَلِّغَ الْعِلْمَ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ : امام بخاری نے مل کی نشر و اشاعت کے متعلق باب باند و کر پہلے عورتوں کی تعلیم کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور عمل درآمد کی طرف توجہ دلائی، کیونکہ تربیت اولاد میں پہلا وہی ذریعہ ہیں۔ پھر اسی ضمن میں علم کی نشر و اشاعت کے بارے میں ایک اور ذریعہ بتلایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو پیش کیا: لِيُبلغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ اگر قوم کے افراد علم کے متعلق اس قدر اہتمام کریں کہ ایک دوسرے کو باخبر اور واقف رکھنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لیں تو تھوڑے ہی عرصہ میں ساری قوم عالم ہو سکتی ہے۔ بہت سی علم کی چھوٹی چھوٹی باتیں جو روزانہدا وزانه اعمال و معاملات میں نہایت میں نہایت قیمتی ہوتی ہیں۔ پڑھنے پڑھانے کی نسبت سن سنا کر زیادہ آسانی سے ذہن نشین ہو جاتی ہیں اور بہت کارآمد ہوسکتی ہیں۔ ابو شریح : مشہور صحابی ہیں۔ ان کا نام خویلد تھا۔ یہ خزاعہ قبیلہ میں سے تھے۔ فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے تھے اور اہل مدینہ کے عقلمندوں میں سے شمار کئے جاتے تھے۔ إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمُهَا النَّاسُ : امیر معاویہؓ نے جب اپنے بیٹے یزید کے متعلق اعلانِ خلافت کیا تو حضرت امام حسین اور حضرت عبداللہ بن زبیر نے اس کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ حضرت امام حسین تو کوفیوں کی غداری سے واقعہ کربلا میں شہید ہوئے اور حضرت عبداللہ بن زبیر مدینہ میں تھے اور اہل مدینہ نے ان کے ہاتھ