صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 181
صحيح البخاري - جلد ا JAL ٣- كتاب العلم ١٠٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ :۱۰۵ ہم سے عبد اللہ بن عبد الوہاب نے بیان کیا، الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ کہا: حماد نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ایوب سے، عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي ایوب نے محمد بن سیرین ) سے، محمد نے ابوبکرہ کے بَكْرَةَ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیٹے سے، انہوں نے (اپنے باپ) ابو بکرہ سے قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ روایت کی کہ انہوں نے نبی ﷺ کا ذکر کیا کہ آپ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ نے فرمایا: (دیکھنا) تمہارے خون اور تمہارے مال۔محمد بن سیرین) کہتے تھے کہ میرا خیال ہے کہ ابوبکرہ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي نے یہ بھی کہا اور تمہاری آبرو میں تمہارے لئے ایسی شَهْرِكُمْ هَذَا أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ ہی معزز ہیں جیسے اس مہینے میں تمہارا یہ دن معزز الْغَائِبَ وَكَانَ مُحَمَّدٌ يَقُولُ صَدَقَ ہے۔سوچاہیے کہ جو تم میں سے حاضر ہے وہ غیر حاضر رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ کو پہنچا دے اور محمد بن سیرین) کہتے تھے: رسول اللہ ذَلِكَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَيْنِ۔نے سچ فرمایا۔یہ ہو چکا۔آپ نے دو دفعہ فرمایا: کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟ اطرافه ٦٧، ۱٧٤١ ، ۳۱۹۷، ٤٤۰۷ ٤٦٦٢، ٥٥٥٠، ٧٠٧٨ ٧٤٤٧ تشريح : لِيُبَلعُ الْعِلْمَ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ : امام بخاری نےعلم کی نشر واشاعت کے متعلق باب باندھ کر پہلے عورتوں کی تعلیم کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور عمل درآمد کی طرف توجہ دلائی، کیونکہ تربیت اولاد میں پہلا وہی ذریعہ ہیں۔پھر اسی ضمن میں علم کی نشر و اشاعت کے بارے میں ایک اور ذریعہ بتلایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو پیش کیا: لِيُبَلِّعَ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ اگر قوم کے افراد علم کے متعلق اس قدر اہتمام کریں کہ ایک دوسرے کو باخبر اور واقف رکھنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لیں تو تھوڑے ہی عرصہ میں ساری قوم عالم ہوسکتی ہے۔بہت سی علم کی چھوٹی چھوٹی باتیں جو روزانہ اعمال و معاملات میں نہایت قیمتی ہوتی ہیں۔پڑھنے پڑھانے کی نسبت بہن سنا کر زیادہ آسانی سے ذہن نشین ہو جاتی ہیں اور بہت کارآمد ہوسکتی ہیں۔ابو شریح : مشہور صحابی ہیں۔ان کا نام خویلد تھا۔یہ خزاعہ قبیلہ میں سے تھے۔فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے تھے اور اہل مدینہ کے عقلمندوں میں سے شمار کئے جاتے تھے۔إنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمُهَا النَّاسُ : امیر معاویہ نے جب اپنے بیٹے یزید کے متعلق اعلانِ خلافت کیا تو حضرت امام حسین اور حضرت عبداللہ بن زبیر نے اس کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔حضرت امام حسین تو کو فیوں کی غداری سے واقعہ کربلا میں شہید ہوئے اور حضرت عبداللہ بن زبیر مدینہ میں تھے اور اہل مدینہ نے ان کے ہاتھ