صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 182
صحيح البخاری جلد ا ٣- كتاب العلم پر بیعت کر لی اور یزید کو خلافت سے معزول کر دیا۔جس پر یزید نے مدینہ کے عامل ( گورنر ) عمرو بن سعید کو اہل مدینہ سے لڑائی کرنے کا حکم دیا۔اس موقع پر حضرت ابو شریح ، عمرو بن سعید کو نصیحت کرتے ہیں، جس کا ذکر روایت نمبر ۱۰۴ میں ہے۔عمرو بن سعید کا جواب بظاہر معقول ہے مگر در حقیقت وہ مغالطہ دے رہا ہے۔بے شک مکہ کی حرمت قصاص سے مانع نہیں ہو سکتی، جیسا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الا بحقها کہہ کر اس کا اعلان فرمایا اور عمرو بن سعید آپ کے اسی استثناء کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔مگر حضرت عبداللہ بن زبیر نے نہ کوئی خون کیا تھا اور نہ چوری اور نہ کوئی اور خرابی۔جس کی وجہ سے اہل مکہ پر حملہ کیا جاتا۔اسلام نے خلیفہ کا انتخاب مسلمانوں کا حق قرار دیا ہے جس کی وجہ سے حضرت عبد اللہ بن زبیر یزید کی خلافت کو جائز قرار نہیں دیتے تھے اور یہ کوئی جرم نہ تھا کہ اس کی وجہ سے مکہ کی بے حرمتی جائز سمجھی جاتی۔صَدَقَ رَسُولُ الله عله : روایت نمبر ۰۵ میں یہ جو الفاظ ہیں: فَكَانَ مُحَمَّدٌ يَقُولُ صَدَقَ رَسُوْلُ الله ال محمد سے مراد محمد بن سیرین ہیں۔امام بخاری کا ان کے قول کو دہرانے سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ عمرو بن سعید کا قول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح ارشاد کے مقابل مردود ہے۔امام بخاریؒ اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے ہمیشہ کوئی نہ کوئی اشارہ کر جاتے ہیں۔كَانَ ذلِكَ : یہ بات ہو چکی۔یعنی سنے والوں نے حق تبلیغ ادا کر دیا۔باب ۳۸ : إِثْمُ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِي عل الله اس شخص کا گناہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے ١٠٦: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ :۱۰۶ ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا: شعبہ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ قَالَ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: منصور نے مجھے بتلایا۔سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشِ يَقُولُ کہا: میں نے ربعی بن حراش سے سنا۔انہوں نے کہا: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی میں نے علی سے سنا۔وہ کہتے تھے نبی ﷺ نے فرمایا: اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مجھ پر جھوٹ مت باندھو۔کیونکہ جس نے مجھ پر پر؟ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَلِجُ النَّارَ۔جھوٹ باندھا تو پھر وہ آگ میں ہی داخل ہو۔:١٠٧ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا : ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے جامع بن شداد سے، جامع نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر سے، انہوں نے اپنے باپ سے ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ راویت کی۔وہ کہتے تھے: میں نے حضرت زبیر سے قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ إِنِّي لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ کہا کہ میں آپ سے نہیں سنتا کہ آپ رسول اللہ ﷺے شُعْبَةُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَامِرٍ