صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 180 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 180

صحيح البخاری جلد ا ۱۸۰ ٣- كتاب العلم عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ حضرت ابو شریح سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا اور وہ (اس وقت) مکہ کی طرف فوجیں بھیج رہے تھے ۔ اے امیر ! مجھے اجازت ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ دیں کہ میں آپ کو ایک ایسی بات بتاؤں جو نبی علی کے لئے جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے یا کسی بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ نے فتح مکہ کے دوسرے دن کھڑے ہو کر بیان کی تھی۔ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي میرے دونوں کانوں نے وہ سنی اور میرے دل نے سمجھ وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِيْنَ تَكَلَّمَ بِهِ حَمِدَ کر یاد کر لی اور جب آپ نے وہ کہی تھی تو میری دونوں اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں۔ اللہ کی حمد آپؐ نے اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمُهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ بیان کی اور اس کی تعریف کی۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے مکہ کو لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ عزت دی ہے اور لوگوں نے اس کو عزت نہیں دی۔ اس لئے جو آدمی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْصِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْهَا فَقُوْلُوْا إِنَّ متعلق اجازت سمجھے کہ رسول اللہ ﷺ اس میں لڑے اللهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُوْلِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَّكُمْ تھے تو تم کہو کہ اللہ ہی نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيْهَا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ ثُمَّ اور اس نے تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے بھی صرف عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا دن میں سے ایک گھڑی بھر ہی اس کے متعلق اجازت بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلَغَ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيلَ دی گئی تھی۔ پھر اس کا ادب آج ویسے کا ویسا دوبارہ قائم لِأَبِي شُرَيْحٍ مَّا قَالَ عَمْرُو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ ہو گیا ہے جیسے اس کا ادب کا اس کا ادب کل تھا اور چاہیے کہ جو حاضر مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ لَّا يُعِيدُ عَاصِيًا وَلَا ہے وہ غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے ۔ اس پر حضرت ابو شریح سے پوچھا گیا کہ عمر و ( بن سعید ) نے کیا کہا ؟ فَارًا بِدَمٍ وَلَا فَارًا بِخَرْبَةٍ۔ درخت کو کاٹے ۔ پس اگر کوئی اس وجہ سے اس کے ۔ا انہوں نے کہا: ابو شریح ! میں تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔ مکہ نافرمان کو پناہ نہیں دیتا اور نہ ایسے شخص کو جو خون کر کے بھاگا اور نہ ایسے کو جو کوئی خرابی کر کے بھاگا۔ اطرافه: ۱۸۳۲، ٤٢٩٥