صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxv
مختصر سیرت و سوانح حضرت سید زین العابد مین نے کشمیر کے مسلمانوں کیلئے خدمات : ۱۹۳۲ء میںحضرت امیر المونین خلیفہ المی اثاثی نے شیر کے مسلمانوں کو حقوق دلانے کے لیے جدو جہد شروع فرمائی۔اس ضمن میں حضور نے جماعت احمدیہ کے جن دوستوں کو کشمیر بھجوایا اُن میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بھی تھے۔حضرت شاہ صاحب موصوف نے نہایت ہی کٹھن کام کئے اور اس ضمن میں دشوار گزار علاقوں میں پیدل سفر کر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کی۔جس کا مفصل ذکر تاریخ احمدیت جلد ششم ( صفحات ۲۱۰ تا ۶۳۰ ) میں ہو چکا ہے۔فجزاه الله احسن الجزاء۔اسی اثناء میں کہ آپ کشمیر کے دور دراز علاقوں میں سفر پر تھے، آپ کھانسی سے بیمار ہوئے اور معجزانہ طور پر آپ کو اللہ تعالی نے شفادی۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔معجزانہ شفاء: میں راولپنڈی سے قادیان پہنچا۔معلوم ہوا کہ پلوری کا عارضہ ہے۔میرے دوست ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب میرے معالج تھے اور میرے بھائی ڈاکٹر میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب ملتان میں تھے۔انہیں مجھ سے بہت محبت تھی میری بیماری کا سن کر مع بیوی قادیان آئے۔انہوں نے حالت دیکھ کر Lumbri Puncture کا علاج تجویز کیا۔اس ذریعہ سے پھیپھڑوں کے پردہ سے پانی نکالا جارہا تھا کہ پچکاری کی سوئی جلد میں ٹوٹ گئی۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نئی سوئی شفاخانہ نور سے لے آئے۔میں اُن دنوں اپنے مرکان دار الانوار میں تھا۔جمعہ کا دن تھا، سوئی نکالی گئی اور کچھ پانی بھی نکلا۔لیکن میری حالت دگرگوں ہوگئی۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو علم ہوا تو آپ مع خاندان تشریف لائے۔حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا ، سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ اور سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ رضی الہ عنہما دیکھ کر سخت رنج میں ڈوب گئیں۔بھائی نے آبدیدہ ہو کر دیوار سے سہارا لیا۔نبض کی حالت دیکھ کر مایوسی طاری تھی۔اسی اثناء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایک دوسرے کمرے میں دُعا کے لیے الگ ہو گئے۔ادھر وہ دعا میں تھے، ادھر میں اپنے عزیز و اقرباء کو بے بسی میں دیکھ رہا تھا۔میں نے اچانک دیکھا کہ فضائے بالا سے فرشتوں کا اُتار چڑھاؤ ہے۔ان میں سے کسی نے میرے دل کو تھاما اور کسی نے پھیپھڑوں کو اور ایک نے شیشہ کا گلاس میرے سامنے پیش کیا۔اس میں آب زلال تھا اور جلی حروف میں گلاس پر سلام لکھا تھا۔میں نے وہ پیا۔یہ سب بین بیداری میں واقعہ ہوا جبکہ میں دوسروں کو دیکھ رہا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو بحالت دعا مکاشفہ ہوا اور آپ کو تسلی دی گئی کہ فکر نہ کریں شاہ صاحب سلامت ہیں۔آپ نے ام طاہر احمد صاحبہ سے اس کا ذکر کیا اتنے میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے نبض دیکھی تو وہ بحالت صحیحہ چل رہی تھی اور میں روبصحت تھا۔دو مختلف جگہوں میں دومشاہدوں کا ایک ہی وقت میں مظاہرہ ہوا؟ جو كُنْ فَيَكُونُ کی تخلیق کا نمونہ تھا جو اس زمانہ دہریت وکفر میں دکھایا گیا۔“ رہائی کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کی رؤیا : علاءمیں جب پاکستان با تو پولیس نے قادیان میں جن احمد یوں کو گرفتار کیا اُن میں حضرت ولی اللہ شاہ صاحب بھی تھے۔آپ ۱۴۔تمبر ۱۹۴۷ء کو نظر بند ہوئے اور کئی ماہ تک گورداسپور جالندھر کی جیل میں صبر آزما مشکلات کا