صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xxv of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxv

مختصر سیرت و سوانح حضرت سید زین العابدین ده ♡ ۱۹۳۱ء میں حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح ا رالمومنین خلیفہ المسیح الثانی نے کشمیر کے کشمیر کے مسلمانوں کیلئے خدمات ما را یاری مانو جدوجہد ضمن میں حضور نے جماعت احمدیہ کے جن دوستوں کو کشمیر بھجوایا اُن میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بھی تھے۔ حضرت شاہ صاحب موصوف نے نہایت ہی کٹھن کام کئے اور اس ضمن میں دشوار گزار علاقوں وں ؟ میں پیدل پیدل - سفر کر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کی ۔ جس کا مفصل ذکر تاریخ احمدیت جلدش کی۔ ششم (ص مد ششم ( صفحات ۲۱۰ تا ۶۳۰ ) میں ہو چکا ہے۔ فجزاه الله احْسَنَ الجزاء ، اسی اثناء میں کہ آپ کشمیر کے دور دراز علاقوں میں سفر پر تھے، آپ کھانسی سے بیمار ہوئے اور معجزانہ طو اور طور پر آپ کو اللہ تعالی نے شفا دی ۔ چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں :- معجزانہ شفاء میں راولپنڈی سے قادیان پہنچا۔ معلوم ہوا کہ پلورسی کا عارضہ ہے۔ میرے دوست ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب میرے معان ے معالج تھے اور میرے بھائی ڈاکٹر میجر سید رسید حبیب اللہ شاہ صاحب ملتان میں تھے۔ انہیں مجھ سے بہت محبت تھی میری بیماری کا سن کر مع بیوی قادیان آئے۔ انہوں نے حالت دیکھ کر Lumbri Puncture کا علاج تجویز کیا۔ اس ذریعہ سے پھیپھڑوں کے پردہ سے پانی نکالا جا رہا تھا کہ پچکاری کی سوئی جلد میں ٹوٹ گئی۔ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نئی سوئی شفا خانہ نور سے لے آئے ۔ میں اُن دنوں اپنے مکان دارالانوار میں تھا۔ جمعہ کا دن تھا، سوئی نکالی گئی اور کچھ پانی بھی نکلا۔ لیکن میری حالت دگرگوں ہو گئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو علم ہوا تو آپ مع خاندان تشریف لائے۔ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا، سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ اور سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ رضی اللہ عنہما دیکھ کر سخت رنج میں ڈ نج میں ڈوب گئیں۔ بھائی نے آبدیدہ ہوکر دیوار سے سہارا لیا۔ نبض کی حالت دیکھ کر مایوی طاری تھی۔ اسی اثناء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایک دوسرے کمرے میں دُعا کے لیے الگ ہو گئے ۔ ادھر وہ دعا میں تھے، ادھر میں اپنے عزیز واقرباء کو بے بسی میں دیکھ رہا تھا۔ میں نے اچانک دیکھا کہ فضائے بالا سے فرشتوں کا اُتار چڑھاؤ ہے۔ ان میں سے کسی نے میرے دل کو تھاما اور کسی نے پھیپھڑوں کو اور ایک نے شیشہ کا گلاس میرے سامنے پیش کیا۔ اس میں آب زلال تھا اور جلی حروف میں میں گلاس گلاس پر پر حمد سَلَامٌ" لکھا تھا۔ میں نے وہ وہ پیا۔ یہ سب عین بیداری میں واقعہ ہوا جبکہ میں دوسروں کو دیکھ رہا تھا۔ حضرت خلیفة المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو بحالت دعا مکاشفہ ہوا اور آپ کو تسلی دی گئی کہ فکر نہ کریں میں شاہ صاحب سلامت ہیں۔ آپ نے ام طاہر احمد صاحبہ سے اس کا کا ذکر ذکر کیا کیا ! اتنے میں ڈاکٹر حشمت الله صاء صاحب نے نبض دیکھی تو وہ بحالت صحیحہ چل رہی تھی اور میں رو بصحت تھا۔ دو مختلف جگہوں میں دو مشاہدوں کا ایک ہی وقت میں مظاہرہ ہوا، جو كُنْ فَيَكُونُ کی تخلیق کا نمونہ تھا جو اس زمانہ دہریت وکفر میں دکھایا گیا۔ رہائی کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کی رؤیا: 1922ء میں جب پاکستان بنا و پولیس نے قاریان ۱۹۴۷ء تو میں جن احمد یوں کو گرفتار کیا اُن میں حضرت ولی اللہ شاہ صاحب بھی تھے۔ آپ ۱۴ ۔ ستمبر ۱۹۴۷ء کو نظر بند ہوئے اور کئی ماہ تک گورداسپور جالندھر کی جیل میں صبر آزما مشکلات کا