صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxiv
مختصر سیرت و سوانح حضرت سید زین العابدین ده بوم بعض اوقات رات کے بارہ بج جاتے مگر یہ اساتذہ مجھے پڑھانے کی انتہائی خواہش رکھتے تا کہ میں اپنی تعلیم کی جلدی سے تکمیل کر سکوں اور وہ یہ کام بغیر معاوضہ کے کیا کرتے تھے۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ مجھ میں خیر و برکت کو دیکھ ر بو دیکھ رہے ہیں۔ اسی اثناء میں آپ کو سات ماہ تک ایک ترکی رسالہ میں بھی خدمت کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کے وسیع مطالعہ کا انتظام بھی کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں آپ نے بیت المقدس میں امتحان دیا اور اعلیٰ نمبروں پر کامیاب ہوئے۔ پھر صلاح الدین ایوبیہ ایوبیہ کا کالج بیت المقدس میں بطور پروفیسر تاریخ الادیان مقرر ہوئے۔ جہاں انگریزی ریزی اور اُردو مضامین کی تدریس بھی آپ کے سپرد ہوئی۔ فن تعلیم و تدریس میں وزارت تعلیم استنبول کی طرف سے منعقدہ امتحان مقابلہ میں آپ اڈل آئے اور آپ نے تمغہ مجیدی اور پچاس ا ری اور پچاس اشرفیاں انعام میں حاصل کیں اور شام کی یونیورسٹی سے وزیر تعا زیر تعلیم کے دستخطوں کے ساتھ سند حاصل کی۔ بعد ازاں آپ سلطانیہ سلطانیہ کالج کے وائس پرنسپل مقرر ہوئے اور اور علم علم النفس النفس اور اور علم علم الاخلاق الاغ کے مضامین بھی آپ کو پڑھانے کا موقع ملا۔ مکرم شاہ صاحب کے زمانہ قیام بیروت میں عثمانیہ حکومت ترکیہ، فلسطین، اردن ، شام اور لبنان پر حکمران تھی۔ جنگ عظیم کا آغاز ہو چکا تھا۔ مکرم شاہ صاحب نے ترکی حکومت کا ساتھ دیا اور انگریزوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ جنگ کے خاتمہ پر آپ کو اکتوبر ۱۹۱۸ء کے آخر میں جنرل ایلن بی کے حکم سے برٹش ملٹری نے حراس ی نے حراست میں لے لیا اور بطور اور بطور جنگی اور سیاسی قیدی قاہرہ لے جایا گیا۔ مئی 1919ء کے اواخر میں آپ کو لاہور لایا گیا۔ آپ کے لاہور پہنچنے پر جب حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو آپ کا علم ہوا تو حضور کی کوششوں سے آپ قید سے آزاد ہوئے اور قادیان پہنچے اور آپ کو نظارت امور عامہ کا کام سپر د کیا گیا ۔ ۱۹۵۴ء تک سلسلہ احمدیہ کی مختلف نظارتوں پر فائز رہے۔ نیز آخری ایام تک سلسلہ کی خدمات بجالاتے رہے۔ ۱۹۲۴ء میں حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ لندن بلاد عربیہ کی طرف دوبارہ سفر : 1 دوباره سفر: عربی تشریف لے ریف لے گئے تو را۔ دراستے نے میں دمشق میں بھی آپ نے قیام فرمایا۔ وہاں کے ادیب علامہ عبدالقادر مغربی نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے کہا کہ ہمارا ملک دین سے خوب واق دین سے خوب واقف ہے۔ عربی عربی ہماری زبان ہے، یہاں آپ کی تبلیغ بے اثر ثابت ہوگی۔ حضور نے فرمایا کہ میں اپنے ملک میں واپس جا کر پہلا کام یہ کروں گا کہ آپ کے ملک میں مبلغ بھجواؤں گا۔ چنانچہ حضور نے اس وعدہ کے مطابق ۱۹۲۵ء میں مولانا جلال انا جلال الدین صاحب شمس کو بلاد عربیہ میں تبلیغ کے لئے دمشق بھیجا اور حضرت سید زین العابدین ولی رین ولی اللہ شاہ صاحب کو آپ کے ساتھ یہ جائزہ لینے کے لیے بھیجا کہ بلاد عر بیہ میں ہمیں کسی رنگ میں تبلیغ کرنی چاہیے۔ چنانچہ آپ نے وہاں چھ ماہ تک قیام کیا۔ ایک معزز خاندان میں وہاں آپ نے شہ نے شادی بھی کی ۔ آپ کے برادر نسبتی السید احمد فائق الساعاتی محکمہ پولیس میں ایک کلیدی عہدے پر فائز تھے۔ آپ نے دورانِ قیام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب کشتی نوح کا ترجمہ کیا اور ایک کتاب بعنوان حیاة المسيح ووفاته شائع کی اور اسی طرح تبلیغی امور کا جائزہ لینے کے بعد قادیان تشریف لائے۔