صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xxiv of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxiv

مختصر سیرت و سوانح حضرت سید زین العابد مین نے بعض اوقات رات کے بارہ بج جاتے مگر یہ اساتذہ مجھے پڑھانے کی انتہائی خواہش رکھتے تاکہ میں اپنی تعلیم کی جلدی سے تکمیل کر سکوں اور وہ یہ کام بغیر معاوضہ کے کیا کرتے تھے۔کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ مجھ میں خیر و برکت کو دیکھ رہے ہیں۔اسی اثناء میں آپ کو سات ماہ تک ایک ترکی رسالہ میں بھی خدمت کا موقع ملا۔اس کے ساتھ ساتھ آپ کے وسیع مطالعہ کا انتظام بھی کیا جاتا رہا۔بعد ازاں آپ نے بیت المقدس میں امتحان دیا اور اعلیٰ نمبروں پر کامیاب ہوئے۔پھر صلاح الدین ایوبیہ کالج بیت المقدس میں بطور پروفیسر تاریخ الادیان مقرر ہوئے۔جہاں انگریزی اور اُردو مضامین کی تدریس بھی آپ کے سپرد ہوئی۔فن تعلیم و تدریس میں وزارت تعلیم استنبول کی طرف سے منعقدہ امتحان مقابلہ میں آپ اول آئے اور آپ نے تمغہ مجیدی اور پچاس اشرفیاں انعام میں حاصل کیں اور شام کی یونیورسٹی سے وزیر تعلیم کے دستخطوں کے ساتھ سند حاصل کی۔بعد ازاں آپ سلطانیہ کالج کے وائس پرنسپل مقرر ہوئے اور علم النفس اور علم الاخلاق کے مضامین بھی آپ کو پڑھانے کا موقع ملا۔مکرم شاہ صاحب کے زمانہ قیام بیروت میں عثمانیہ حکومت ترکیہ، فلسطین، اردن ، شام اور لبنان پر حکمران تھی۔جنگ عظیم کا آغاز ہو چکا تھا۔مکرم شاہ صاحب نے ترکی حکومت کا ساتھ دیا اور انگریزوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔جنگ کے خاتمہ پر آپ کو اکتوبر 1910ء کے آخر میں جنرل امین بی کے حکم سے برٹش ملٹری نے حراست میں لے لیا اور بطور جنگی اور سیاسی قیدی قاہرہ لے جایا گیا۔مئی 1919 ء کے اواخر میں آپ کو لاہور لایا گیا۔آپ کے لاہور پہنچنے پر جب حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو آپ کا علم ہوا تو حضور کی کوششوں سے آپ قید سے آزاد ہوئے اور قادیان پہنچے اور آپ کو نظارت امور عامہ کا کام سپر د کیا گیا۔۱۹۵۴ء تک سلسلہ احمدیہ کی مختلف نظارتوں پر فائز رہے۔نیز آخری ایام تک سلسلہ کی خدمات بجالاتے رہے۔۱۹۲۴ء میں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ لندا بلاد عربیہ کی طرف دوبارہ سفر : تشریف لے گئے تو راستے میں دمشق میں بھی آپ نے قیام فرمایا۔وہاں کے ادیب علامہ عبد القادر مغربی نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے کہا کہ ہمارا ملک دین سے خوب واقف ہے۔عربی ہماری زبان ہے؛ یہاں آپ کی تبلیغ بے اثر ثابت ہوگی۔حضور نے فرمایا کہ میں اپنے ملک میں واپس جا کر پہلا کام یہ کروں گا کہ آپ کے ملک میں مبلغ بھجواؤں گا۔چنانچہ حضور نے اس وعدہ کے مطابق ۱۹۲۵ء میں مولا نا جلال الدین صاحب شمس کو بلادِ عربیہ میں تبلیغ کے لئے دمشق بھیجا اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو آپ کے ساتھ یہ جائزہ لینے کے لیے بھیجا کہ بلاد عربیہ میں ہمیں کس رنگ میں تبلیغ کرنی چاہیے۔چنانچہ آپ نے وہاں چھ ماہ تک قیام کیا۔ایک معزز خاندان میں وہاں آپ نے شادی بھی کی۔آپ کے برادر نسبتی السید احمد فائق الساعاتی محکمہ پولیس میں ایک کلیدی عہدے پر فائز تھے۔آپ نے دورانِ قیام حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتاب کشتی نوح کا ترجمہ کیا اور ایک کتاب بعنوان حیاةُ المسیح ووفاته شائع کی اور اسی طرح تبلیغی امور کا جائزہ لینے کے بعد قادیان تشریف لائے۔