صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxiii
مختصر سیرت و سوانح حضرت سید زین العابدین نے جتنی انگریزی کی ہمیں ضرورت ہے اتنی آپ نے پڑھ لی ہے۔اب نور الدین کی شاگردی اختیار کریں۔جس راستے پر نور الدین چلائے گا اُس میں آپ کے لیے کامیابی ہے۔“ ( حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب۔باب دوم : خود نوشت حالات زندگی - صفحه ۱۹) سم حضور کے ارشاد پر لبیک کہتے ہوئے آپ حضور کے قدموں میں حاضر ہو گئے اور قرآن مجید کے درس سے استفادہ کیا۔اس طرح حضور کے ارشاد پر حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ سے قواعد اللغة العربيه یعنی صرف ونحو، عربی ادب اور اصول شاشی اور حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب ہلال پوری سے علم منطق پڑھا۔نیز حضرت خلیفہ المسیح الا اول رضی اللہ عنہ سے موطا امام مالک اور پھر صحیح بخاری اور فوز الکبیر درست پڑھی۔طالب علمی کے زمانہ ہی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اکثر کتب پڑھنے کا بھی موقع ملا۔(ماخوذ از حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب۔باب دوم: خود نوشت حالات زندگی۔صفحہ ۱۹) عهد وقف زندگی: جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مدرسہ احمد یہ قائم کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس سے کچھ دیر قبل ٹی۔آئی ہائی سکول کے طلباء کو وقف زندگی کی تحریک فرمائی۔حضرت شاہ صاحب نے وقف کی نیت کر کے اسی وقت سے دُعا ئیں شروع کر دیں۔لیکن حضرت مسیح موعود ال کے وصال پر جب آپ حضور کی آخری زیارت کر کے کمرے سے باہر نکلے تو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب المصلح الموعود نے فرمایا: میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے یہ عہد کیا ہے کہ اگر ساری جماعت تجھے چھوڑ دے تو میں تیرے کام کی تکمیل کے لیے اپنی جان قربان کرنے) سے دریغ نہ کروں گا۔“ اس مفہوم کے الفاظ تھے۔آپ نے متعدد بار ( کہ کر ) اپنے اس عہد کا ذکر کیا اور اس وقت حضرت شاہ صاحب سے بھی فرمایا کہ وہ بھی یہ عہد کریں۔اس پر انہوں نے عرض کیا: میں نے ( یہ عہد کر لیا ہے۔) غرض پہلے وقف کے لیے نیت اور دُعا ئیں تھیں اور اب اس آخری الوداعی زیارت کے وقت پر اقرار وقف۔(ماخوذ از حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب، باب دوم : خود نوشت حالات زندگی۔صفحہ ۲۰) تحصیل علم کے لئے مصر کو روانگی: حضرت مصلح موعود کی تحریک پر آپ ۱۹۱۳ء میں حصول تعلیم کے لیے مصر اور بعض دیگر عرب اسلامی ممالک کے لیے روانہ ہوئے۔حضرت خلیفہ المسح الاول نے دعا کے ساتھ الوداع کیا۔آپ قاہرہ پہنچے لیکن زیادہ دیر تک وہاں قیام نہ کر سکے اور عربی کی تدریس کے لئے بیروت اور بعد ازاں طلب چلے گئے ، جہاں آپ نے اعلیٰ پایہ کے اساتذہ سے تحصیل علوم کی۔آپ کے اساتذہ میں الشیخ ہاشم الشريف الخليل البیروتی، علامہ الشیخ بشیر الغزی الحلبی اور الشیخ صالح الرافعی الطرابلسی زیادہ مشہور ہیں۔ان اساتذہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے حضرت شاہ صاحب فرمایا کرتے تھے : میں اس گھڑی کو ہر وقت یاد کرتا ہوں جب میرے یہ استاد مجھے پڑھایا کرتے تھے۔تاریک رات ، موسلا دھار بارش ، غضب کی ٹھنڈک اور سردی اور نیند کا شدید غلبہ